حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع تاریخی بھوج شالہ۔کمال مولیٰ مسجد تنازعہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ مسلم فریق نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے خصوصی اجازت عرضی داخل کی ہے، جس میں متنازعہ مقام کو دیوی سرسوتی/واگ دیوی کا مندر قرار دیا گیا تھا اور وہاں نماز کی اجازت ختم کر دی گئی تھی۔
لائیو لا کے مطابق یہ عرضی قاضی معین الدین کی جانب سے داخل کی گئی ہے، جو ہائی کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کار تھے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کا 15 مئی 2026 کا حکم مسلم برادری کے مذہبی حقوق کو متاثر کرتا ہے اور متنازعہ عمارت کے کردار و استعمال سے متعلق عدالت کے نتائج کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ہندو فرنٹ فار جسٹس اور دیگر فریقین کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اے ایس آئی کی رپورٹ پر انحصار کیا تھا اور کہا تھا کہ بھوج شالہ۔کمال مولیٰ کمپلیکس بنیادی طور پر سرسوتی مندر ہے۔ عدالت نے 2003 کے اے ایس آئی سرکلر کو بھی کالعدم قرار دیا، جس کے تحت ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز کی اجازت دی گئی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسلمانوں کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ وہ دھار ضلع میں مسجد کی تعمیر کے لیے ریاستی حکومت سے متبادل زمین کی درخواست کر سکتے ہیں۔ مسلم فریق کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی، مذہبی اور آئینی حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے، اس لیے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بھوج شالہ۔کمال مولیٰ کمپلیکس طویل عرصہ سے تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔ ہندو فریق اسے راجہ بھوج کے دور کا سنسکرت تعلیمی مرکز اور دیوی واگ دیوی/سرسوتی کا مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولیٰ مسجد مانتا ہے۔ 2003 کے انتظام کے تحت دونوں برادریوں کو مخصوص دنوں میں عبادت کی اجازت حاصل تھی، تاہم ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے بعد یہ مشترکہ انتظام ختم ہو گیا۔
اس معاملہ میں ہندو فریق پہلے ہی سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کر چکا ہے، تاکہ مسلم فریق کی اپیل پر کوئی بھی حکم انہیں سنے بغیر جاری نہ کیا جائے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں کہ آیا وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگاتی ہے یا معاملہ کی تفصیلی سماعت کے بعد کوئی نیا رخ سامنے آتا ہے۔


