تبلیغی جماعت مہاراشٹر کے امیر حافظ منظور سپرد خاک، جنازہ میں سروں کا سمندر امڈ آیا (ویڈیوز دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) عالمی اسلامی اصلاحی تحریک تبلیغی جماعت کے مہاراشٹر امیر حافظ منظور کو پیر کی شب پمپری چنچوڑ کے نگڈی قبرستان میں ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 90 برس سے زائد عمر کے حافظ منظور کا اتوار 18 مئی کو پونے میں انتقال ہوگیا تھا، جس کے بعد مہاراشٹر سمیت ملک بھر کی مسلم برادری میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

تبلیغی جماعت کے ہندوستانی سربراہ مولانا سعد اور ان کے صاحبزادے خصوصی طور پر نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے اور مرحوم کا آخری دیدار کیا۔ حافظ منظور کی میت کو آخری دیدار کے لیے پونے کی فاطمہ مسجد میں رکھا گیا تھا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ مسجد سے قبرستان تک عقیدت مندوں کا جم غفیر موجود تھا، تاہم تدفین کا پورا عمل نہایت نظم و ضبط اور پُرامن ماحول میں مکمل ہوا۔

مرحوم حافظ منظور اپنی پوری زندگی دینی خدمت، اصلاحِ معاشرہ اور نوجوانوں کو نشہ سے دور رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ وہ جہیز کے خلاف مہم، سادگی سے شادی اور دینی تعلیمات کے فروغ پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ آخری وقت تک دینی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور پیر و جمعرات کے روزے باقاعدگی سے رکھتے تھے۔

تبلیغی جماعت، جس کی بنیاد 1926 میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے رکھی تھی، دنیا بھر میں مسلمانوں کو دینی اقدار اور سادہ اسلامی زندگی کی طرف راغب کرنے والی ایک بڑی اصلاحی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ حافظ منظور کئی دہائیوں تک مہاراشٹر میں اس تحریک کے امیر رہے اور ہزاروں افراد کی اصلاح و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں