حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی ہائی کورٹ نے 2020 دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش کے مقدمہ میں گرفتار سابق جے این یو طالب علم عمر خالد کو 3 دن کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ عدالت نے ان کی والدہ کی سرجری اور مرحوم چچا کے چہلم میں شرکت کے معاملہ کو انسانی بنیادوں پر دیکھتے ہوئے محدود راحت دی۔
عدالت کے حکم کے مطابق عمر خالد کو یکم جون صبح 7 بجے سے 3 جون شام 5 بجے تک رہائی دی جائے گی۔ اس دوران انہیں ایک لاکھ روپے کا شخصی مچلکہ داخل کرنا ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عمر خالد نیشنل کیپٹل ریجن یعنی این سی آر سے باہر نہیں جائیں گے، اپنی رہائش گاہ پر رہیں گے اور صرف والدہ کی سرجری کے لیے اسپتال جانے کی اجازت ہوگی۔
عمر خالد نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی والدہ کو 2 جون کو ایک خانگی اسپتال میں سرجری کے لیے مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد ضعیف ہیں اور بہنیں شادی کے بعد الگ رہتی ہیں، اس لیے خاندان کے بڑے اور اکلوتے بیٹے کی حیثیت سے والدہ کی دیکھ بھال کے لیے ان کی موجودگی ضروری ہے۔
اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے عمر خالد کی 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ چچا کے چہلم میں شرکت ضروری نہیں، جبکہ والدہ کی سرجری کے معاملہ میں خاندان کے دیگر افراد مدد کرسکتے ہیں۔ تاہم دہلی ہائی کورٹ نے محدود مدت کے لیے راحت دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ مواقع پر عمر خالد نے عبوری ضمانت کی شرائط کی پابندی کی اور وقت پر سرنڈر کیا تھا۔
استغاثہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمر خالد عدالت کی نرمی کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری وکیل نے دعویٰ کیا کہ والدہ کی سرجری معمولی نوعیت کی ہے اور خاندان کے دیگر افراد ان کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمر خالد ستمبر 2020 سے یو اے پی اے کے تحت جیل میں ہیں۔ ان پر شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے تشدد سے متعلق مبینہ بڑی سازش کا الزام ہے۔ ان فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔


