غزہ کی بیواؤں کی دردناک عید، شہید شوہروں اور اجڑے گھروں کی یاد نے خوشیاں چھین لیں

حیدرآباد (دکن فائلز) عیدالاضحیٰ خوشیوں، قربانی اور خاندانی اجتماع کا تہوار سمجھی جاتی ہے، لیکن غزہ کی ہزاروں بیواؤں اور بے گھر خاندانوں کے لیے یہ عید دکھ، محرومی اور پیاروں کی جدائی کی یادیں لے کر آئی ہے۔ اسرائیلی حملوں اور مسلسل محاصرے نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور عید کی رونقیں سوگ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے والی فلسطینی خاتون سماح ابو دقہ اپنے پھٹے ہوئے خیمے میں عید کی تیاری کے بجائے اپنے خاندان کی بقا کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہیں۔ ان کے شوہر، بھائی، داماد اور دیگر قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ماضی میں عید کے دن پورا خاندان ایک دسترخوان پر جمع ہوتا تھا، لیکن اب گھر کے بیشتر چراغ گل ہو چکے ہیں اور خوشیوں کی جگہ خاموشی نے لے لی ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق تنظیم کے مطابق اپریل 2026 تک غزہ میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ فلسطینی وزارتِ خواتین کے امور کے مطابق 12 ہزار 500 سے زائد خواتین شہید ہوئیں جن میں 9 ہزار سے زیادہ مائیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 55 ہزار سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین صحت کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

ایک اور فلسطینی خاتون فتحیہ ابو دراز کہتی ہیں کہ ان کے شوہر اور بیٹے کی شہادت کے بعد عید خوشی کا نہیں بلکہ غم کا دن بن گئی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو نئے کپڑے یا عید کی خوشیاں دینے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح تغرید ابو طیر، جو جنگ میں اپنے دونوں پیر کھو چکی ہیں، کہتی ہیں کہ غزہ میں اب لوگ عید منانے کے بجائے خوراک اور پناہ گاہ کے حصول کی فکر میں مبتلا ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 15 لاکھ فلسطینی بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ جنگ اور محاصرے کے باعث خوراک، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے۔ ایسے میں غزہ کی بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے عیدالاضحیٰ خوشیوں کے بجائے اپنے پیاروں کی یادوں اور کرب کی علامت بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں