فلسطین میں اذان پر پابندی کی ناپاک کوشش! اسرائیل نے مساجد پر بھاری جرمانوں کا متنازعہ بل منظور کرلیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اسرائیلی حکومت کی قانون سازی سے متعلق وزارتی کمیٹی نے ایک متنازع مسودۂ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے کیلئے پیشگی سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔

انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر کی حمایت سے پیش کیے گئے اس بل کے مطابق بغیر اجازت نامے کے کسی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نصب کرنا یا اذان کیلئے استعمال کرنا ممنوع ہوگا۔ مجوزہ قانون میں شور کی سطح، مسجد کا محل وقوع، رہائشی علاقوں سے قربت اور دیگر عوامل کی بنیاد پر اجازت نامہ جاری کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

بل کے تحت اسرائیلی پولیس کو وسیع اختیارات دیے جائیں گے، جن کے ذریعے وہ کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کی صورت میں اذان رکوا سکتی ہے، لاؤڈ اسپیکر ضبط کر سکتی ہے اور مسجد انتظامیہ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق بغیر اجازت ساؤنڈ سسٹم استعمال کرنے پر 50 ہزار شیکل تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جبکہ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی پر 10 ہزار شیکل اضافی جرمانہ ہوگا۔

اس اقدام پر فلسطینی اور اسلامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے خطیب اور سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اذان اسلام کا بنیادی شعار اور عبادت کا اہم حصہ ہے، جس میں مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اذان کو روکنے کی کوششیں نئی نہیں ہیں، تاہم اس مرتبہ اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو کمزور کیا جا سکے۔ شیخ عکرمہ صبری نے یاد دلایا کہ بیت المقدس میں سب سے پہلی اذان حضرت بلال بن رباحؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں فتحِ بیت المقدس کے بعد دی تھی۔

انہوں نے اسرائیلی حکام کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ اذان شور پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اصل شور جنگی طیاروں، ٹینکوں، بمباری اور فوجی کارروائیوں کا ہے جو فلسطینی عوام کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

یہ بل ابھی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں منظوری کا منتظر ہے، تاہم اس کی ابتدائی منظوری نے فلسطینیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جو اسے مذہبی آزادی اور اسلامی شعائر کے خلاف ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں