حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا کے ضلع بیڑ کے نوجوان اعجاز محمود بگوان نے ایم اے ایچ ایل ایل بی (3 سالہ) سی ای ٹی 2026 میں 99.99 پرسنٹائل حاصل کرکے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے خطے کا نام روشن کر دیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک تعلیمی ریکارڈ نہیں بلکہ عزم، قربانی، محنت اور والدین کی دعاؤں کی ایک ایسی داستان ہے جو ہزاروں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔
اعجاز کا سفر آسان نہیں تھا۔ تعلیم کے دوران والد کے انتقال نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا، مگر ان کی والدہ اور بڑے بھائی سلطان بگوان نے ہمت نہیں ہاری۔ بھائی نے سبزی اور پھل فروخت کرکے گھر کا خرچ اور اعجاز کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ دوسری طرف اعجاز نے بھی کال سینٹر میں ملازمت کی اور “کماؤ اور سیکھو” اسکیم کے تحت اپنی تعلیم مکمل کی۔
انہوں نے دسویں، بارہویں، گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ نیٹ، سیٹ اور جے آر ایف جیسے اہم امتحانات بھی کامیابی سے پاس کیے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں رہ کر یو پی ایس سی کی تیاری کے دوران کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
اعجاز کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ان کی والدہ کی دعاؤں، بھائی کی قربانیوں، اساتذہ کی رہنمائی اور دوستوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔ آج وہ خود مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کی رہنمائی کر رہے ہیں اور قانون کی تعلیم مکمل کرکے غریب اور محروم طبقات کی خدمت کا خواب رکھتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب مسلم نوجوانوں کو مایوسی اور چیلنجز کا سامنا ہے، اعجاز بگوان کی کامیابی ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ محنت، تعلیم اور مضبوط ارادے کے ذریعہ ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ ان کی داستان یقیناً نوجوان نسل کے لیے امید، حوصلے اور کامیابی کا روشن چراغ ہے۔


