حیدرآباد (دکن فائلز) نئے اسلامی سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کا غلاف (کسوہ) تبدیل کر دیا گیا۔ اس موقع پر مسجد الحرام میں عقیدت، احترام اور روحانیت سے بھرپور مناظر دیکھنے میں آئے، جبکہ دنیا بھر سے آئے لاکھوں زائرین اور عمرہ ادا کرنے والے اس تاریخی اور بابرکت لمحے کے گواہ بنے۔
حرمین شریفین کی انتظامیہ کے مطابق غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی پُروقار تقریب میں کسوہ فیکٹری کے 250 سے زائد ماہرین اور حرم کے کارکنان نے حصہ لیا۔ غلاف کی تبدیلی کا عمل تقریباً چار گھنٹوں میں مکمل کیا گیا، جبکہ اس دوران طواف اور عبادات کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہا۔
نیا غلاف انتہائی باریک بینی اور مہارت کے ساتھ تقریباً 11 ماہ میں تیار کیا گیا۔ یہ 47 ریشمی پینلز پر مشتمل ہے جن پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآنِ مجید کی 68 آیاتِ مبارکہ کی نفیس کڑھائی کی گئی ہے۔ نئے غلاف کا مجموعی وزن 1415 کلوگرام بتایا گیا ہے۔
غلافِ کعبہ کی تیاری مکہ مکرمہ میں قائم شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوہ کعبہ میں مکمل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں سالانہ تقریباً 825 کلوگرام قدرتی ریشم، 120 کلوگرام سونے سے ملمع شدہ چاندی کے تار، 60 کلوگرام خالص چاندی اور 410 کلوگرام خام کپاس استعمال کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری سات اہم مراحل پر مشتمل ہوتی ہے جن میں دھلائی، رنگ سازی، بنائی، پرنٹنگ، کڑھائی، معائنہ اور تنصیب شامل ہیں۔ یہ روایت اسلامی فنون، روایتی دستکاری اور جدید ٹیکنالوجی کے حسین امتزاج کی عکاس ہے۔
واضح رہے کہ 2022 سے غلافِ کعبہ کی تبدیلی یکم محرم کو کی جا رہی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تقریب 9 ذوالحجہ کو ادا کی جاتی تھی۔


