بریکنگ نیوز: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط، مفاہمتی یادداشت نافذ العمل؛ جنگ کا ہوا اختتام!

حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور باضابطہ دستخط کر چکے ہیں اور معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے معاہدے کی وہ کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی ہے جس پر ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی موجود ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سفارتی تاریخ میں یہ پہلا بڑا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر دونوں سربراہانِ مملکت نے الیکٹرانک دستخط کے ذریعے اتفاق کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پا چکا ہے اور دونوں ممالک کے صدور اس پر دستخط کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ ملاقات دراصل دستخطی تقریب کے لیے نہیں تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے بعد اس ملاقات کے انعقاد یا منسوخی کے بارے میں چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں جی-7 اجلاس کے بعد منعقدہ خصوصی عشائیے کے دوران معاہدے کی ہارڈ کاپی پر بھی دستخط کیے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی کیفیت کا خاتمہ، خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین آبنائے ہرمز کے معاملے پر پہلے ہی اتفاق کر چکے تھے، اسی لیے معاہدے پر مقررہ وقت سے قبل دستخط کر دیے گئے۔

معاہدے کی اہم شقیں
معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا جبکہ امریکہ ایران پر عائد بعض اہم پابندیوں میں نرمی لانے کے اقدامات کرے گا۔ ایران کو اپنی تیل کی برآمدات دوبارہ مکمل طور پر بحال کرنے کا حق حاصل ہوگا اور تہران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کی راہ بھی ہموار کی جائے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا اختیار رکھتا ہے، تاہم جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ معاہدے کے نفاذ کے لیے فوری طور پر تکنیکی مذاکرات شروع کیے جائیں گے جبکہ آئندہ 60 روز کے دوران کسی بھی فریق کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنے یا خطے میں فوجی موجودگی بڑھانے سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لبنان سمیت خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اسے معاہدے کی روح کے منافی سمجھا جا سکتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ تقریب کا امکان
اگرچہ الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک علامتی اور باضابطہ تقریب منعقد ہونے کا امکان برقرار ہے۔ اس تقریب میں ایران، امریکہ، پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے نمائندے شریک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس معاہدے میں ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، عالمی تیل منڈی کے استحکام اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل امتحان اب اس معاہدے پر عمل درآمد اور آئندہ تکنیکی مذاکرات کی کامیابی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں