حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیر محمد اظہرالدین نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس عمل کے دوران مسلم ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے اس بیان نے ریاستی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گاندھی بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اظہرالدین نے کہا کہ اگرچہ ایس آئی آر تمام ووٹروں پر لاگو ہونے والا عمل ہے، لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ مسلم ووٹروں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار اور مغربی بنگال جیسے بعض ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، جس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے عوام کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اظہرالدین نے کہا کہ ووٹ صرف ایک حق نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اگر کسی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو جاتا ہے تو وہ اپنے سب سے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایس آئی آر کے دوران اپنے نام، پتہ اور دیگر تفصیلات کی جانچ ضرور کریں اور کسی بھی غلطی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔
وزیر نے زور دے کر کہا کہ آئندہ انتخابات کے نتائج بڑی حد تک ووٹر لسٹوں کی درستگی پر منحصر ہوں گے، اس لیے ہر شہری کو اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے خود آگے آنا ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں اظہرالدین نے اپنی زبان سے متعلق دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تلگو پڑھنا اور لکھنا آتا ہے، لیکن روانی سے بولنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطیوں سے بچنے کے لیے وہ عموماً ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں خود کو زیادہ آسانی محسوس ہو۔
ریاستی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ میں مؤثر حکمرانی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور سابق حکومت کے دور کی زیر التوا فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
اظہرالدین نے کہا کہ وزارت سنبھالنے کے بعد وہ دو سو سے زائد عوامی مسائل حل کر چکے ہیں اور ان کا مقصد تشہیر حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی خدمت انجام دینا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران ہر ووٹر کو چوکس رہنا ہوگا تاکہ کسی بھی اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو سکے۔


