مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی ناپاک سازش؟ اسرائیل کی گھناؤنی حرکتوں پر عالمِ اسلام میں تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز) مسجدِ اقصیٰ، جو مسلمانوں کا قبلۂ اول اور دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، ایک بار پھر اسرائیلی اقدامات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاسی حلقے اور دائیں بازو کے رہنما مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس سے پورے خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض اسرائیلی حلقے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کو باضابطہ طور پر ’’کثیر المذاہب عبادت گاہ‘‘ قرار دینے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس تاریخی اسٹیٹس کو کے خلاف ہوگا جس کے تحت مسجدِ اقصیٰ کا انتظام و انصرام اردن کے زیر نگرانی اسلامی وقف کے پاس ہے اور غیر مسلم افراد کو صرف زیارت کی اجازت ہے، عبادت کی نہیں۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی انتہا پسند رہنما موشے فیگلن نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مذہبی نغمے گائے اور وہاں یہودی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی حمایت کی۔ اسی طرح اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی متعدد بار مسجدِ اقصیٰ کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں ان کی موجودگی نے فلسطینیوں اور مسلم دنیا میں شدید ردعمل پیدا کیا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ ابو سوئے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسجدِ اقصیٰ کے موجودہ انتظام میں مداخلت کی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جلجلیہ میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی جبکہ دیواروں پر اشتعال انگیز عبرانی نعرے تحریر کیے گئے۔ فلسطینی حکام نے ان واقعات کو مذہبی اشتعال انگیزی اور مسلمانوں کے مقدسات کے خلاف منظم مہم قرار دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسجدِ اقصیٰ صرف ایک مذہبی مقام نہیں بلکہ فلسطینی شناخت، تاریخ اور خودمختاری کی علامت بھی ہے، اسی لیے اس کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش پورے خطے میں بڑے سیاسی اور مذہبی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں