حیدرآباد (دکن فائلز) شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقے کاپرا میں واقع جناپریہ لیک فرنٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک ہندوتوا شدت پسند کی جانب سے مسلم لڑکے کو مبینہ طور پر ’’پاکستانی‘‘ کہہ کر پکارنے کے واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوسائٹی کے رہائشیوں اور مینجنگ کمیٹی کے بعض ارکان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کے دوران ایک مسلم لڑکے کو پاکستانی کہہ کر مخاطب کیا گیا۔
ویڈیو میں متاثرہ لڑکا جذباتی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’میں ایک ہندوستانی شہری ہوں، میرے دادا بھارتی فوج میں صوبیدار کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں، پھر مجھے پاکستانی کیوں کہا جا رہا ہے؟‘‘ نوجوان کا یہ جواب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور کئی حلقے اسے مذہبی تعصب کے خلاف ایک مضبوط ردعمل قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ کاپرا کے جناپریہ لیک فرنٹ سوسائٹی میں پیش آیا جہاں کسی معاملے پر رہائشیوں اور انتظامی کمیٹی کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوئی۔ اسی دوران مبینہ طور پر مسلم نوجوان کے خلاف توہین آمیز اور فرقہ وارانہ الفاظ استعمال کیے گئے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار بھی موجود دکھائی دے رہے ہیں، تاہم الزام ہے کہ مسلم خاندان کو دھمکانے کا سلسلہ پولیس کی موجودگی میں بھی جاری رہا۔
سوشل میڈیا پر متعدد سماجی اور سیاسی کارکنوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی بنیاد پر نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے جبکہ ان کے آباؤ اجداد نے ملک کی خدمت اور دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
تاحال پولیس کی جانب سے واقعہ کی وجوہات یا کسی مقدمے کے اندراج کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کے جسمانی تشدد یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/zoo_bear/status/2067678182174834990/video/1
عوام کی جانب سے تلنگانہ پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصب کو فروغ دینے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔


