حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کی سیاست ایک بار پھر غیر معمولی ہلچل سے گزر رہی ہے۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں میں اندرونی اختلافات، ممکنہ بغاوتوں اور سیاسی صف بندیوں کی خبروں کے درمیان یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی قیادت والا قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) پارلیمنٹ میں اپنی عددی طاقت بڑھانے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے؟ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ پیش رفتوں کو محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اگرچہ سب سے بڑی جماعت بننے کا اعزاز حاصل ہوا، تاہم وہ اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہ کر سکی اور 240 نشستوں پر سمٹ گئی۔ این ڈی اے کی مجموعی طاقت 293 نشستوں تک پہنچی، لیکن آئین میں اہم ترامیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت یعنی 362 نشستوں کا ہدف اب بھی دور ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ پارلیمانی اجلاس کے دوران حد بندی (Delimitation) سے متعلق قانون سازی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی تھی، لیکن متحد اور طاقتور اپوزیشن نے اس معاملے میں سخت مزاحمت کی۔ مبصرین کے مطابق اسی کے بعد سے بی جے پی کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح پارلیمنٹ میں اپنی عددی برتری کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ مستقبل میں یکساں سول کوڈ (UCC)، ون نیشن ون الیکشن اور حد بندی جیسے حساس قوانین کو آسانی سے منظور کروایا جا سکے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ بی جے پی اقتدار کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے جمہوری اداروں اور آئینی اصولوں کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی ان الزامات کو سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیتی ہے۔
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے بعض ارکان پارلیمان کی ناراضگی کی اطلاعات نے سیاسی بحث کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 20 ارکان مستقبل میں نئی سیاسی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو این ڈی اے کو پارلیمنٹ میں بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) بھی مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے چھ ارکان پارلیمان کی جانب سے علیحدہ گروپ کی حیثیت مانگنے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں بڑھ گئی ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما سنجے راوت نے الزام لگایا ہے کہ بعض ارکان کو کروڑوں روپے کی پیشکش کر کے وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور تمل ناڈو میں ڈی ایم کے۔کانگریس تعلقات کے حوالے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں، اگرچہ متعلقہ جماعتوں نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات مزید گہرے ہوتے ہیں اور کچھ ارکان حکمران اتحاد کا ساتھ دیتے ہیں تو این ڈی اے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ تمام معاملات قیاس آرائیوں اور سیاسی امکانات تک محدود ہیں۔
آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ اپوزیشن میں پیدا ہونے والی بے چینی واقعی این ڈی اے کو دو تہائی اکثریت کے قریب لے جاتی ہے یا پھر یہ تمام سیاسی ہلچل محض افواہوں اور وقتی سیاسی دباؤ کا حصہ ثابت ہوتی ہے۔ فی الحال ایک بات طے ہے کہ ملک کی سیاست ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے اور پارلیمانی طاقت کا یہ کھیل مستقبل کی قانون سازی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔


