حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب، پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی مذہبی عبادت گاہوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل حملے بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے خاص طور پر رملہ کے قریب جیلجلیہ گاؤں کی مسجد کبریٰ اور مزرعہ النوبانی میں واقع مسجد الفاروق پر ہونے والے حالیہ حملوں کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔ ان حملوں میں مساجد کو نقصان پہنچایا گیا اور دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد صرف فلسطینی عوام کے خلاف نہیں بلکہ مذہبی مقامات کے تقدس اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی ایک سنگین جرم ہے۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل کو بطور قابض طاقت ان واقعات کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی، عدم استحکام اور انتہاپسندی کو فروغ دے رہے ہیں اور امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے تشدد کو روکا جا سکے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کی حدود پر مشتمل ہوں۔ وزرائے خارجہ نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے قیام کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔


