ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف حالات مسلسل خراب ہورہے ہیں! ’نسل کشی کے آٹھویں مرحلے‘ کا دعویٰ: امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر

حیدرآباد (دکن فائلز) انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کی رکن اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی الہان عمر نے ایک تقریب کے دوران ہندوستان کے خلاف متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک ’’نسل کشی کے آٹھویں مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے اس بیان نے ہندوستان اور امریکہ دونوں میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔

الہان عمر نے انڈین امریکن مسلم کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے عالمی برادری کو آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ صورتحال صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سرایت کرچکی ہے۔

ہندوستانی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اقلیتوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ترین اور سب سے زیادہ جامع ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے وقت ہندوستان میں اقلیتوں کی آبادی تقریباً 11 فیصد تھی جو اب 20 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے، جو ملک کی مذہبی رواداری اور جمہوری نظام کا ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں