حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے کو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت جنگ بندی جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق چار بجے نافذ العمل ہو گئی۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اسرائیل جبکہ قطر نے ایران اور متعلقہ فریقوں سے رابطے کر کے اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔ ایک خلیجی سفارت کار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور حزب اللہ کے جوابی حملوں کے باعث حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز تمام محاذوں بشمول لبنان میں مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ معمولی نوعیت کے خطرات کے جواب میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ تہران غزہ سمیت تمام محاذوں پر امن چاہتا ہے اور اگر امریکہ معاہدے کی شرائط پر سنجیدگی سے عمل کرتا ہے اور اسرائیل کو بھی اس کا پابند بناتا ہے تو ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر اسرائیل کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر کے سخت بیانات نے ایک بار پھر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کہا تھا کہ اسرائیل کو پورے لبنان کو تباہ کرنے کا حق حاصل ہے، جس پر خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ایران۔امریکہ امن معاہدے کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آسکتی ہے، تاہم کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں حالات دوبارہ بگڑنے کا خطرہ موجود رہے گا۔


