’’ہر وقت جنگ نہیں، کبھی دماغ بھی استعمال کرنا چاہیے‘‘ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو مشورہ: نیتن یاہو امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے، امریکی انٹیلی جینس کا انکشاف

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ ہر مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بعض اوقات تحمل، دانشمندی اور سفارت کاری میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت سے براہ راست رابطہ کیا اور انہیں واضح طور پر بتایا کہ ’’ہر وقت جنگ لڑنا ضروری نہیں ہوتا، کبھی کبھی آپ کو پرسکون رہ کر دماغ سے کام لینا چاہیے۔‘‘

ٹرمپ نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ ان کی گفتگو براہ راست اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ہوئی یا کسی اور اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار سے، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے نیتن یاہو کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن ’’انہیں کبھی کبھی قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔‘‘

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے روک سکتے ہیں کیونکہ ’’اسرائیل وہی کرتا ہے جو میں کہتا ہوں۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ اس جنگ بندی کے لیے امریکہ، قطر اور ایران نے پس پردہ اہم سفارتی کردار ادا کیا۔

دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے سے خوش نہیں ہیں اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو پر داخلی سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، خصوصاً آئندہ انتخابات کے پیش نظر وہ لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے تاثر سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں ان کی سیاسی بقا کا اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اگر لبنان میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو نہ صرف اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی تناظر میں بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کو اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں پر تشویش ہے اور ماضی میں امریکی اداروں نے اسرائیلی جاسوسی کی بعض مبینہ کوششوں کا بھی نوٹس لیا تھا۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں