آہ: 45 دن میں 20 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور درگاہیں مسمار؛ مسلمانوں میں خوف کا ماحول، مسلم مرر کی رپورٹ میں سنگین سوالات

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں مسلم مذہبی مقامات کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں نے ایک بار پھر مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف نیوز پورٹل ’مسلم مرر‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تقریباً 45 دنوں کے دوران ملک کی مختلف بی جے پی زیرِ اقتدار ریاستوں میں 20 سے زائد مساجد، درگاہوں، عیدگاہوں اور مدارس کو مسمار کیا گیا ہے۔

مسلم مرر کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2026 سے جون 2026 کے درمیان دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، گجرات اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں متعدد مسلم مذہبی ڈھانچوں کو انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کئی مقامات پر مقامی افراد اور مذہبی تنظیموں نے الزام لگایا کہ کارروائیوں سے قبل مناسب قانونی نوٹس یا شفاف طریقۂ کار اختیار نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دہلی کی مشہور درگاہ پنچ پیراں (منگول پوری)، فرید آباد کی قدیم مسجد، ممبئی کے باندرہ علاقے کی دو مساجد، پونے کی حضرت شمس الدین قادری درگاہ، وارانسی کی اجگائب شہید مسجد، جے پور کی نورانی مسجد، سمبھل کی درگاہ اور عیدگاہ سمیت متعدد مذہبی مقامات کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسمار کیا گیا۔ بعض مقامات کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں صدیوں پرانے مذہبی مراکز تھے۔

مسلم مرر کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون کے پہلے ہی پندرہ دنوں میں انہدامی کارروائیوں کی رفتار مزید تیز ہوئی۔ گجرات میں تین درگاہوں اور ایک قبرستان، مہاراشٹر کے گورے گاؤں میں واقع ایک درگاہ، اتر پردیش کے سمبھل میں مسجد مصطفیٰ قادری اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف کارروائیاں خاص طور پر توجہ کا مرکز بنیں۔

رپورٹ میں وارانسی کی مسجد گنج شہیداں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے بارے میں مسجد کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے، جبکہ ریلوے انتظامیہ اسے اسٹیشن توسیعی منصوبے میں رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔ اسی طرح راجستھان کے باڑمیر ضلع میں چار مساجد کی مسماری نے بھی مقامی سطح پر تشویش پیدا کی۔

مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق امریکی تنظیم جسٹس فار آل نے بھی حالیہ انہدامی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ہی دنوں میں متعدد مساجد کی مسماری مذہبی آزادی اور مساوی قانونی سلوک کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ تنظیم نے بھارتی سول سوسائٹی اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

دوسری جانب سرکاری اداروں اور متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں زمین کے استعمال، تجاوزات کے خاتمے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عدالتی احکامات کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ تاہم مسلم مرر کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے ملک میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ، تاریخی ورثے کی بقا اور قانون کے غیرجانبدارانہ نفاذ سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

مسلم مرر کے مطابق اب یہ بحث صرف تجاوزات یا تعمیراتی ضابطوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا ملک کے تمام شہریوں اور مذہبی طبقات کو آئین کے مطابق یکساں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں