شیئر بازار میں ہاہاکار: آئی ٹی شیئروں میں زبردست گراوٹ، چند گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کے 1.3 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی شیئر بازار میں جمعہ کے روز آئی ٹی سیکٹر کو شدید جھٹکا لگا، جب انفوسس، ٹی سی ایس، ایچ سی ایل ٹیک، ٹیک مہندرا اور وپرو سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئروں میں بھاری فروخت دیکھی گئی۔ صرف چند گھنٹوں کے دوران آئی ٹی کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 1.3 لاکھ کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

مارکیٹ کھلتے ہی انفوسس کے شیئر میں 8 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ٹی سی ایس تقریباً 6 فیصد، ایچ سی ایل ٹیک 5 فیصد سے زائد اور ٹیک مہندرا و وپرو 3 سے 5 فیصد تک نیچے آ گئے۔ آئی ٹی شیئروں میں زبردست فروخت کے باعث سینسیکس اور نفٹی دونوں اہم اشاریے دباؤ کا شکار رہے۔

ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی آئی ٹی کمپنی ایکسنچر (Accenture) کی جانب سے جاری کردہ نئی مالی پیش گوئیاں ہیں۔ کمپنی نے اپنے سالانہ ریونیو گروتھ کے اندازوں میں کمی کی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر آئی ٹی خدمات کی طلب کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کی آمدنی کا بڑا حصہ امریکہ سے آتا ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں ٹیکنالوجی پر اپنے اخراجات کم کرتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر ہندوستانی کمپنیوں کے کاروبار اور منافع پر پڑتا ہے۔ ایکسنچر کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں درج ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کے اے ڈی آرز (ADRs) میں بھی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے اثرات مقامی بازار میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔

اگرچہ حالیہ مہینوں میں ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں نے کئی بڑے عالمی معاہدے حاصل کیے ہیں، لیکن ان کے مالی فوائد فوری طور پر نظر نہیں آ رہے۔ متعدد عالمی کلائنٹس اخراجات میں احتیاط برت رہے ہیں اور نئے منصوبوں کو مؤخر کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی روایتی آئی ٹی خدمات کے مستقبل کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی نئی کاروباری مواقع پیدا کرے گی، تاہم روایتی سافٹ ویئر اور آؤٹ سورسنگ خدمات پر اس کے اثرات کے بارے میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ گراوٹ کسی طویل مدتی مندی کا آغاز ہے یا صرف ایک وقتی ردعمل۔ ان کے مطابق آئندہ سہ ماہی نتائج اور امریکہ میں ٹیکنالوجی اخراجات کے رجحانات اس بات کا تعین کریں گے کہ ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتوں میں آنے والے مالیاتی اعداد و شمار اور عالمی معاشی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی عوامل کی بنیاد پر آئی ٹی سیکٹر کی آئندہ کارکردگی کا اندازہ لگایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں