حجاب کے بغیر گانا گانے پر ایرانی گلوکارہ کو 74 کوڑوں کی سزا! غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں اور خواتین کے قتل عام پر خاموش نام نہاد انسانی حقوق کے کارکن تلملا اٹھے

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کی معروف نوجوان گلوکارہ پراستو احمدی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے آٹھ افراد کو ایک آن لائن موسیقی پروگرام کے بعد سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی عدالت نے گلوکارہ اور ان کی پروڈکشن ٹیم کے ارکان کو 74 کوڑوں کی سزا، دو سال تک بیرونِ ملک سفر پر پابندی اور دو سال تک فنی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ دسمبر 2024 میں نشر ہونے والی ایک آن لائن پرفارمنس سے متعلق ہے، جس میں 29 سالہ پراستو احمدی نے یوٹیوب پر نشر ہونے والے ایک کنسرٹ کے دوران حجاب کے بغیر وطن پرستانہ نغمہ ’’از خون جوانان وطن‘‘ پیش کیا تھا۔ یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور لاکھوں افراد نے اسے دیکھا۔

اطلاعات کے مطابق ویڈیو نشر ہونے کے فوراً بعد گلوکارہ اور چند موسیقاروں کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد حکام نے اس پروگرام کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی شروع کر دی۔

وہیں دوسری طرف اسرائیلی بربریت اور درندگی میں ہزاروں معصوم بچے اور خواتین کی ہلاکت پر خاموش رہنے والے نام نہاد انسانی حقوق کے کارکنوں نے بے حیائی پر دی گئی معمولی سزا پر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ امریکہ میں قائم ’’سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران‘‘ کی نمائندہ بہار قندھاری نے کہا کہ صرف گانا گانے اور حجاب کے بغیر عوامی پرفارمنس دینے پر 74 کوڑوں کی سزا دینا اظہارِ رائے اور فنکارانہ آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایرانی نژاد برطانوی اداکارہ نازنین بنیادی اور جلاوطن ایرانی اداکارہ ستارہ ملکی سمیت کئی شخصیات نے گلوکارہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فن اور موسیقی کو سزا کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں