حیدرآباد میں جعلی دستاویزات کے ذریعہ کروڑوں کی جائیدادوں پر قبضہ کی کوشش، 61 سالہ ملزم گرفتار

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں جعلی دستاویزات کے ذریعے قیمتی اراضی اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے، مالکان کو دھمکانے اور بھاری رقوم وصول کرنے کے الزام میں ایک 61 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چادر گھاٹ پولیس کے مطابق ملزم محمد عبدالقدوس گزشتہ کئی برسوں سے منظم انداز میں زمینوں کے تنازعات پیدا کرکے جائیداد مالکان کو ہراساں کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نیو ملک پیٹ کے تاجر محمد نجم الدین شاکر نے شکایت درج کرائی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ خاندانی وراثت میں ملنے والی زمین پر 2025 میں تعمیراتی کام شروع کیا گیا تو محمد عبد القدوس نے اس زمین پر اپنا حق جتاتے ہوئے جعلی دستاویزات پیش کرنا شروع کر دیں۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم جعلی ہبہ نامے (ہبہ نامہ) اور فرضی اسٹامپ پیپر تیار کرکے مختلف عدالتوں میں سول مقدمات اور رِٹ پٹیشنیں دائر کرتا تھا۔ اس کا مقصد اصل مالکان کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا کر ذہنی دباؤ کا شکار بنانا اور بعد ازاں مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھیوں کے ذریعہ جائیداد مالکان سے رابطہ کرتا اور مقدمات واپس لینے یا تنازعات ختم کرنے کے نام پر لاکھوں روپے کا مطالبہ کرتا تھا۔ موجودہ مقدمے میں بھی شکایت کنندہ سے 10 لاکھ روپے طلب کیے گئے اور رقم نہ دینے کی صورت میں جھوٹے فوجداری مقدمات اور حتیٰ کہ قتل کے کیس میں پھنسانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

تفتیش سے معلوم ہوا کہ محمد عبد القدوس خاص طور پر ایسی زمینوں کو نشانہ بناتا تھا جن کی خرید و فروخت حال ہی میں ہوئی ہو یا جہاں نئی تعمیرات جاری ہوں۔ وہ ایک ہی جعلی دستاویز نمبر استعمال کرتے ہوئے متعدد فرضی ہبہ نامے تیار کرتا اور پھر جائیدادوں پر ملکیت کا دعویٰ کر دیتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم اس طریقۂ واردات کے ذریعے مختلف افراد سے تقریباً 40 لاکھ روپے وصول کر چکا ہے۔ جب اس کے خلاف مقدمات کا دائرہ وسیع ہوا تو وہ حیدرآباد چھوڑ کر بنگلور فرار ہو گیا، جہاں اپنے بیٹے کے گھر میں روپوش تھا۔

خصوصی پولیس ٹیم نے بنگلور کے گنگا نگر علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 22 جون کو اسے گرفتار کر لیا اور حیدرآباد منتقل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف 2014 سے دھوکہ دہی، جعل سازی، بھتہ خوری، دھمکیوں اور زمینوں پر قبضے کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

ملزم کو نامپلی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے 14 روزہ عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زمینوں سے متعلق معاملات میں اگر کوئی شخص جعلی دستاویزات یا غیر قانونی مالی مطالبات کرے تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں