حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ نے ملک میں مسلمانوں کو درپیش سماجی، سیاسی اور مذہبی چیلنجوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی مسلم برادری کی موجودہ صورتحال، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بنیادی حقوق سے متعلق ایک جامع دستاویز جاری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ملک گیر سطح پر ایک منظم عوامی تحریک شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی جبکہ کارروائی جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے چلائی۔ اجلاس میں مولانا ارشد مدنی، اسدالدین اویسی، سید سعادت اللہ حسینی اور دیگر اہم اراکین نے شرکت کی۔
بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کے مطابق اجلاس میں بعض ریاستوں میں پیش آنے والے ہجومی تشدد (لنچنگ)، مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں، مسلم بستیوں اور مکانات پر بلڈوزر مہم، وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں، یونیفارم سول کوڈ (UCC) کی پیش رفت اور کمال مولہ مسجد/بھوج شالہ معاملے پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مجلسِ عاملہ نے کہا کہ مسلمانوں کی جان و مال، مذہبی آزادی، تعلیمی اداروں، پرسنل لا اور آئینی حقوق سے متعلق مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان معاملات پر متعدد سیکولر سیاسی جماعتوں کی خاموشی بھی تشویش کا باعث ہے۔ بورڈ نے کہا کہ ان مسائل کو صرف ایک طبقے کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ ملک کی جمہوری اقدار اور آئینی ڈھانچے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی، بنیادی حقوق کی پامالی اور مسلم برادری کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ انصاف پسند اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے طبقات کو صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
بورڈ نے کمال مولہ مسجد اور بھوج شالہ مقدمے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، سرکاری ریکارڈ اور عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بورڈ نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے قانونی جدوجہد میں مکمل تعاون کا اعلان کیا۔
مجلسِ عاملہ نے وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے تمام شہریوں یا طلبہ پر لازمی کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ اسی طرح یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق مختلف ریاستوں کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور اس سلسلے میں قانونی و جمہوری راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر مسلمانوں کے حقوق، آئینی تحفظات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے ایک ملک گیر عوامی تحریک شروع کرنے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ایکشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔


