حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی نژاد برطانوی فلم ساز اور بین الاقوامی فلمی صنعت سے وابستہ معروف پروڈیوسر سائرس پٹیل کے اسلام قبول کرنے سے متعلق اطلاعات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ایک دستاویز کو ان کے اسلام قبول کرنے کا سرکاری سرٹیفکیٹ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد فلمی اور سوشل میڈیا حلقوں میں اس موضوع پر وسیع بحث شروع ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائرل ہونے والا سرٹیفکیٹ لندن کی سینٹرل مسجد اور اسلامک کلچرل سینٹر کی جانب سے جاری کیا گیا بتایا جا رہا ہے۔ اس دستاویز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں میں سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ بھی شامل ہیں، جس کے بعد اس خبر کو مزید توجہ حاصل ہوئی۔
ترکی آل الشیخ کے مطابق سائرس پٹیل نے سعودی عرب میں ایک بڑے فلمی منصوبے پر کام کے دوران کچھ عرصہ مملکت میں گزارا، جہاں انہوں نے مسلم معاشرے، اسلامی اقدار اور مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھا۔ ان کے بقول اسی تجربے نے سائرس پٹیل کو اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب دی اور بعد ازاں انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
سائرس پٹیل ممبئی میں پیدا ہوئے اور 1999 سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بطور لائن پروڈیوسر اور ایونٹ پروڈکشن مینیجر عالمی فلمی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے اہم پراجیکٹس میں “The Ministry of Ungentlemanly Warfare” اور “Kandahar” جیسی بین الاقوامی فلمیں شامل ہیں، جنہوں نے انہیں عالمی سطح پر شناخت دلائی۔
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں بعض دیگر بین الاقوامی شخصیات کے اسلام قبول کرنے سے متعلق اطلاعات بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ تاہم سائرس پٹیل کی جانب سے ابھی تک اسلام قبول کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ عوامی بیان یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔


