پرکاش راج کا نام ووٹر لسٹ غائب! کہا ووٹ کا حق روک سکتے ہیں مگر اقتدار سے ہٹانے کی طاقت نہیں

حیدرآباد (دکن فائلز) معروف اداکار پرکاش راج نے دعوی کیا ہے کہ خصوصی ووٹر فہرست نظرثانی ایس آئی آر کے دوران ان کا نام بنگلورو کی ووٹر لسٹ سے حذف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوئے، یہیں تعلیم حاصل کی اور اسی شہر سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران لوک سبھا انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

پرکاش راج نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں اپنے ووٹ کے حق سے محروم کیے جانے پر حیرت اور ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بنگلورو حلقے میں ووٹ کا حق کھونے والے لاکھوں افراد میں وہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بنگلورو میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے۔ انہوں نے اسی شہر میں تھیٹر کے میدان میں اپنی شناخت بنائی اور بعد میں فلمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ پرکاش راج نے یاد دلایا کہ وہ اسی حلقے سے لوک سبھا انتخابات میں امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔

اپنی ویڈیو میں اداکار نے کہا کہ وہ اب یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اپنا ووٹر آئی ڈی اور ووٹ کا حق دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انہیں کون سا قانونی اور انتظامی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے حکام اور اقتدار میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے وہ اپنے اختیارات کے ذریعے ایسے شہریوں کا ووٹ روک سکیں جو انہیں ووٹ نہیں دیتے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ عوام کی اس طاقت کو بھی روک سکتے ہیں جس کے ذریعے حکومتوں کو اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے۔

پرکاش راج نے اپنی بات کا اختتام اپنے معروف انداز میں “جسٹ آسکنگ” کے ساتھ کیا۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ووٹر فہرست کی نظرثانی، شہریوں کے حق رائے دہی اور SIR کے طریقہ کار کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے۔ تاہم پرکاش راج کے نام کے حذف ہونے کی اصل وجہ اور ان کے دعوے کی انتظامی تفصیلات متعلقہ انتخابی حکام کے ریکارڈ سے ہی واضح ہوں گی۔

پرکاش راج نے اسی دوران جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں سرکاری ملازمتوں کے لیے احتجاج کرنے والے JPSC اور JSSC امیدواروں کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مبینہ زیادتی اور سختی کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اقتدار کا تکبر بالآخر عوامی مزاحمت کو جنم دیتا ہے اور ایسی صورتحال حکومتوں کے خلاف غصے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ پرکاش راج نے اپنے ردعمل کے ساتھ “جسٹ آسکنگ” ہیش ٹیگ کا بھی استعمال کیا۔

اداکار گزشتہ کئی برسوں سے سماجی اور سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ووٹر فہرست میں نام حذف ہونے سے متعلق ان کا تازہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں