کیرالہ میں خواتین کے عوامی کردار پر تنازع: کانتھاپورم کے بیان کے خلاف وزیراعلیٰ کی تنقید پر مسلم جماعت برہم، معافی کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالہ میں ممتاز سنی عالم دین کانتھاپورم اے پی ابوبکر مُسلیار کے خواتین کے عوامی زندگی میں کردار سے متعلق بیان پر شروع ہونے والا تنازعہ اب وزیراعلیٰ وی ڈی ستھیسن اور مسلم مذہبی تنظیموں کے درمیان اختلاف تک پہنچ گیا ہے۔ کانتھاپورم سے وابستہ کیرالہ مسلم جماعت نے وزیراعلیٰ کے تبصرے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان سے اپنا بیان واپس لینے اور مسلم برادری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ابوبکر مسلیار نے ایک اسلامی کانفرنس میں خواتین کی عوامی مقامات اور پلیٹ فارموں پر موجودگی کے حوالے سے تبصرہ کیا۔ ان کے بیان کے مطابق خواتین کا مردوں کے ساتھ عوامی پلیٹ فارموں پر اختلاط مناسب نہیں اور اسلام نے خواتین کے تحفظ کے لیے پردے کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے عوامی میدان میں آنے سے ’’بڑی تباہی‘‘ پیدا ہوسکتی ہے۔

کیرالہ کے وزیراعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے کانتھاپورم کے خیالات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا مؤقف 21ویں صدی کے ترقی پسند کیرالہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ستھیسن نے کہا کہ خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے کا نظریہ 19ویں صدی میں شاید بیان کیا جاسکتا تھا، لیکن جدید دور میں خواتین کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہوکر زندگی کے تمام شعبوں میں حصہ لینا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے اسلامی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت خدیجہؓ کی تجارت میں نمایاں حیثیت اور حضرت عائشہؓ کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تاریخ میں خواتین کے عوامی کردار کی مثالیں موجود ہیں، اس لیے قرآن و اسلام کی تشریح اس انداز میں نہیں کی جانی چاہیے جس سے خواتین کو گھروں تک محدود کرنے کا تاثر پیدا ہو۔

وزیراعلیٰ کے بیان پر عالم دین سے وابستہ تنظیم کیرالہ مسلم جماعت نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ تنظیم نے وزیراعلیٰ کی جانب سے کانتھاپورم پر اسلام کی غلط تشریح کرنے کا الزام لگانے کو ’’کھلا جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ستھیسن اپنا بیان واپس لیں اور مسلم برادری سے معافی مانگیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مذہبی معاملات میں علماء کو اپنی رائے اور تشریح پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور سیاسی عہدہ رکھنے والے افراد کو مذہبی تعلیمات کی تشریح کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے۔

کیرالہ کی بڑی مسلم مذہبی تنظیموں میں شامل کیرالہ جمعیۃ العلماء کے صدر جفری متھوکویٰ تھنگل نے بھی وزیراعلیٰ کے تبصرے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی معاملات پر بات کرنے والے علماء کو حقیر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مذہب سے متعلق امور پر مذہبی علماء ہی بات کریں گے اور کسی عالم کی رائے کو صرف یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ موجودہ دور سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ایک اور عالم دین نصر فیضی کودتھائی نے بھی ابوبکر مُسلیار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق کانتھاپورم خواتین کو محض گھروں میں قید کرنے کی بات نہیں کررہے تھے بلکہ خواتین کے تحفظ، پردے اور مذہبی اصولوں کی پاسداری پر زور دے رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں