یورپ میں مکمل سورج گرہن، دن میں چھا گئی رات جیسی تاریکی

حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا کے مختلف حصوں میں 12 اگست 2026 کو ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملا جب مکمل سورج گرہن نے یورپ کے بعض علاقوں میں دن کے وقت رات جیسی تاریکی پیدا کردی۔ گرہن کا مکمل مرحلہ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور بعض دیگر علاقوں میں دیکھا گیا، جبکہ یورپ کے متعدد ممالک میں سورج کا بڑا حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا۔

لاکھوں افراد نے اس نایاب منظر کا مشاہدہ کیا، جبکہ اسپین اور آئس لینڈ سمیت مختلف مقامات پر فلکیات کے شوقین افراد خصوصی طور پر اس منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ یورپ میں 1999 کے بعد یہ پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جس نے ماہرین فلکیات کے ساتھ عام لوگوں کی بھی خاص توجہ حاصل کی۔

چاند کا سایہ قطب شمالی کے قریب روس کے شمالی علاقوں سے گزرتا ہوا گرین لینڈ، آئس لینڈ اور بحر اوقیانوس سے ہوتا ہوا اسپین اور پرتگال تک پہنچا۔ آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک سمیت بعض علاقوں میں سورج مکمل طور پر چاند کے پیچھے چھپ گیا اور چند لمحوں کے لیے دن کے وقت آسمان پر رات جیسا منظر پیدا ہوگیا۔

اس دوران سورج کی بیرونی فضا کا روشن حصہ، جسے سورج کی کرونا کہا جاتا ہے، بھی مکمل گرہن کے دوران نمایاں ہوا۔ یہ منظر مکمل سورج گرہن کے سب سے نمایاں اور سائنسی اعتبار سے اہم مظاہر میں شمار ہوتا ہے۔ اسپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں سمیت آ کورونیا، لیان، ساراگوسا، والنسیا اور جزائر بالیارک میں بھی مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا گیا۔ بعض علاقوں میں یہ منظر غروب آفتاب کے قریب سامنے آیا، جس سے آسمان کی روشنی میں اچانک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔

یورپ کے ان علاقوں کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔ بعض مقامات پر سورج کا 80 سے 95 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دن کے وقت روشنی کافی مدھم ہوگئی۔

ہندوستان میں یہ سورج گرہن ہندوستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے شروع ہوا، جبکہ اس وقت ہندوستان میں رات ہونے کے باعث اسے براہ راست نہیں دیکھا جاسکا۔ اسی طرح بیشتر ایشیائی علاقوں میں بھی گرہن کا مشاہدہ ممکن نہیں تھا۔ شمالی امریکہ کے بعض حصوں، افریقا کے علاقوں اور دیگر خطوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔

یورپ میں اس فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے لاکھوں افراد کھلے مقامات پر جمع ہوئے۔ کئی مقامات پر لوگوں نے خصوصی حفاظتی چشمے استعمال کیے تاکہ سورج کو براہ راست دیکھنے سے آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔ سورج گرہن کے دوران سورج کو بغیر مناسب حفاظتی فلٹر کے براہ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، اس لیے ماہرین ہمیشہ مناسب شمسی چشموں یا محفوظ مشاہداتی طریقوں کے استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔

فلکیاتی شائقین کے لیے اگلا بڑا موقع 2 اگست 2027 کو آئے گا۔ ناسا کے مطابق اس دن مکمل سورج گرہن جنوبی اسپین، شمالی افریقا کے کئی ممالک، سعودی عرب اور یمن سمیت ایک وسیع خطے میں دیکھا جاسکے گا۔ شمالی افریقا اور مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں میں مکمل گرہن کا شاندار نظارہ ممکن ہوگا۔

اس گرہن کی خاص بات اس کا طویل دورانیہ ہوگا۔ دستیاب فلکیاتی پیش گوئیوں کے مطابق زمین پر مکمل گرہن کا دورانیہ بعض مقامات پر تقریباً 6 منٹ سے زیادہ ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے آنے والے برسوں کے اہم ترین فلکیاتی واقعات میں شمار کیا جارہا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق 2026، 2027 اور 2028 میں یورپ کے لیے مسلسل تین اہم سورج گرہن کے مواقع سامنے آرہے ہیں۔ 12 اگست 2026 کو مکمل سورج گرہن، 2 اگست 2027 کو ایک اور مکمل سورج گرہن اور 26 جنوری 2028 کو اسپین اور پرتگال کے علاقوں میں حلقہ نما یعنی رنگ آف فائر سورج گرہن متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں