حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں سرکاری عہدوں پر فائز افراد سے مذہبی غیر جانب داری کی توقع اپنی جگہ، لیکن کیا کسی مسلمان افسر کا اپنے مذہب اور تہذیبی شناخت کے مطابق ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہنا بھی قابلِ اعتراض قرار دیا جاسکتا ہے؟ مغربی بنگال کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کی اچانک منتقلی کے بعد یہ سوال ایک بار پھر شدت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
بشریٰ بانو نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے سول سروس کی تیاری کرنے والے طلبہ کے ساتھ اپنی کامیابی کا سفر شیئر کیا تھا۔ ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے ’’السلام علیکم‘‘ کہا، جبکہ اپنی گفتگو کے دوران ’’ان شاء اللہ‘‘ کا استعمال کیا اور اختتام پر ’’جزاک اللہ‘‘ کہا۔ ویڈیو میں انہوں نے اپنی کامیابی کے سفر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی سے حاصل ہونے والی مدد اور طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔
لیکن ویڈیو کا اصل موضوع یعنی تعلیم، محنت اور سول سروس کی تیاری پس منظر میں چلا گیا اور بحث ان اسلامی اصطلاحات کے استعمال پر شروع ہوگئی۔ بشریٰ بانو کے ویڈیو پیغام پر کچھ شدت پسند فرقہ پرستوں نے اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرکاری عہدے پر فائز ایک افسر کو عوامی گفتگو میں مذہبی اصطلاحات استعمال کرنی چاہئیں یا نہیں۔
ہندو لیگل فنڈ نامی تنظیم نے مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری کو شکایت بھیجی۔ تنظیم نے اعتراض کیا کہ بشریٰ بانو نے ویڈیو کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے کیا، ’’ان شاء اللہ‘‘ استعمال کیا اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہہ کر اختتام کیا، جبکہ ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے ہند‘‘ استعمال نہیں کیا گیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض ایک ویڈیو سے نکل کر مذہبی شناخت اور سرکاری عہدے کے درمیان تعلق کے بڑے سوال میں تبدیل ہوگیا۔ ایک مسلمان کے لیے ’’السلام علیکم‘‘ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک عام اسلامی سلام ہے۔ ’’ان شاء اللہ‘‘ مستقبل کے کسی کام کے بارے میں اللہ کی مشیت کا حوالہ دینے والا عام مذہبی اظہار ہے، جبکہ ’’جزاک اللہ‘‘ دعائیہ کلمات ہیں۔
بشریٰ بانو نے اپنی ویڈیو میں کسی دوسرے مذہب یا ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی، بلکہ طلبا کو سول سروس میں آنے، محنت کرنے اور ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ یہاں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر کسی افسر کا مذہب اس کی سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بن رہا تو اس کی ذاتی مذہبی شناخت کے اظہار کو کس حد تک مسئلہ سمجھا جانا چاہیے؟
مسلمان ہونا کسی سرکاری ملازم کی اہلیت یا حب الوطنی کی نفی نہیں کرتا، لیکن اگر ایک مسلمان افسر کے معمول کے مذہبی الفاظ ہی اس کے خلاف شکایت کا سبب بن جائیں تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اعتراض اس کے عہدے پر ہے، اس کے الفاظ پر ہے یا اس کی مذہبی شناخت کے اظہار پر؟
بشریٰ بانو نے اپنی ویڈیو میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر کی بات کی اور بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی نے ان کی UPSC تیاری میں کس طرح مدد کی۔ انہوں نے طلبہ کو ایسے کوچنگ مراکز سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دی۔
بشریٰ بانو 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور مغربی بنگال کے کھڑگ پور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر تعینات تھیں۔ انہوں نے اس عہدے کا چارج سنبھالنے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد ہی تبادلے کا سامنا کیا۔ 14 ستمبر کے مغربی بنگال حکومت کے حکم کے مطابق انہیں کھڑگ پور کے ایڈیشنل ایس پی کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیٹ آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین کی ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری حکم نامے میں تبادلے کی وجہ ’’عوامی مفاد ‘‘ (Public Interest) بتائی گئی ہے۔
حکومت نے سرکاری طور پر یہ نہیں کہا کہ بشریٰ بانو کو ’’السلام علیکم‘‘ یا دیگر اسلامی الفاظ استعمال کرنے کی وجہ سے منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم، ان کی ویڈیو پر اعتراض، شکایت اور اس کے فوراً بعد سامنے آنے والے تبادلے کے وقت اور حالات نے اس معاملے کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ بشریٰ بانو کا تعلق اترپردیش کے قنوج سے ہے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور سعودی عرب میں بھی ملازمت کی۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد انہوں نے سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے UPSC سول سروسز امتحان دو مرتبہ کامیابی سے پاس کیا۔ پہلی مرتبہ کامیابی کے بعد ان کا انتخاب انڈین ریلوے ٹریفک سروس کے لیے ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اترپردیش انتظامی سروس کا امتحان بھی کامیاب کیا اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہوں نے دوبارہ UPSC سول سروسز امتحان پاس کرکے آئی پی ایس میں جگہ بنائی۔ ان کی کامیابی اس لیے بھی قابلِ ذکر رہی کہ انہوں نے دو بچوں کی پرورش کے ساتھ یہ مشکل امتحانات کامیابی سے پاس کیے۔
ان کی حالیہ ویڈیو کا مقصد بھی اپنی اسی جدوجہد اور تجربے سے دوسرے طلبہ کو فائدہ پہنچانا تھا۔
مغربی بنگال حکومت کی جانب سے تبادلے کو معمول کی کارروائی اور عوامی مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی مخالفین اور بعض دیگر افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مذہبی الفاظ کے استعمال پر ہونے والے اعتراض اور تبادلے کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ اس تعلق کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے آئی پی ایس ایسوسی ایشن سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی، جبکہ ٹی ایم سی کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے کہا کہ حکومت کو تبادلے کا اختیار ضرور ہے، لیکن اگر کسی افسر نے کوئی غیر پارلیمانی یا غیر آئینی بات نہیں کہی اور صرف اپنی عادت یا ذاتی عقیدے کے مطابق کوئی لفظ استعمال کیا تو اسے اس بنیاد پر سزا نہیں ملنی چاہیے۔
بشریٰ بانو کا معاملہ اب صرف ایک آئی پی ایس افسر کے تبادلے کا معاملہ نہیں رہا۔ اس نے یہ وسیع سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا سرکاری ملازم اپنی سرکاری ذمہ داریوں میں غیر جانب دار رہتے ہوئے اپنی مذہبی شناخت کے عام اور غیر سیاسی اظہار کا حق بھی رکھتا ہے؟
ایک مسلمان افسر کا ’’السلام علیکم‘‘ کہنا اسے کم ہندوستانی یا کم سرکاری افسر نہیں بناتا، جس طرح کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کا اپنے مذہبی یا ثقافتی انداز میں سلام کرنا بذاتِ خود اس کی سرکاری ذمہ داریوں سے انحراف ثابت نہیں کرتا۔
بشریٰ بانو کے معاملے میں بھی دستیاب رپورٹ کے مطابق ان کی ویڈیو میں بنیادی پیغام طلبا کو سول سروس کی تیاری، تعلیم اور ملک کی خدمت کی ترغیب دینا تھا۔ تنازع ان کے استعمال کیے گئے مذہبی الفاظ پر پیدا ہوا۔
مسلمان ہونے پر اعتراض نہ ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اگر ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ جیسے الفاظ ہی ایک مسلمان افسر کے لیے قابلِ اعتراض بن جائیں تو سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ مسلمان ہونے کا نہیں تو پھر مسلمان کی مذہبی شناخت کے اظہار سے آخر اتنی نفرت کیوں؟


