سیکولر ہندوستان کے وزیر داخلہ پر مسلم آئی اے ایس و آئی پی ایس افسران سے تعصب کا انتہائی شرمناک الزام! امیت شاہ کے خلاف مہوا موئترا کی اقوام متحدہ میں شکایت

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے سرکاری دوروں کے دوران سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو مبینہ طور پر سرکاری اجلاسوں اور پروٹوکول کی ذمہ داریوں سے دور رکھنے کا معاملہ اب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے تک پہنچ گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور کرشن نگر کی رکن لوک سبھا مہوا موئترا نے اقلیتی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نکولس لیووریٹ کو خط لکھ کر معاملے کی تحقیقات اور حکومت سے وضاحت طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔

ٹیلیگراف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مہوا موئترا نے الزام عائد کیا ہے کہ جولائی اور اگست میں امت شاہ کے مغربی بنگال کے دوروں کے دوران تین سینئر مسلم افسران، سید وقار رضا (آئی پی ایس)، جاوید شمیم (آئی پی ایس) اور خلیل احمد (آئی اے ایس) کو مختلف مواقع پر یا تو اجلاسوں سے جانے کے لیے کہا گیا یا انہیں سرکاری پروگراموں میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو ان مواقع پر موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور جن افسران کے نام خط میں لیے گئے ہیں، ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

مہوا موئترا کے مطابق پہلا واقعہ 18 جولائی کو سلی گوڑی میں سرحدی سلامتی سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران پیش آیا۔ ان کے دعوے کے مطابق سلی گوڑی پولیس کمشنریٹ کے کمشنر سید وقار رضا کو اجلاس سے چلے جانے کے لیے کہا گیا اور امت شاہ کے استقبال و رخصتی کے پروٹوکول میں بھی انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کی جگہ شمالی بنگال کے آئی جی پی سُکیش کمار جین کو ذمہ داری دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق موئترا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس کے سربراہ جاوید شمیم کو اسی اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ایس ٹی ایف کے آئی جی گورو شرما نے اجلاس میں فورس کی نمائندگی کی۔

19 جولائی کو کولکاتا میں قانون و نظم اور آفات سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق اجلاس میں بھی مبینہ طور پر خلیل احمد کو، جو فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایڈیشنل چیف سکریٹری تھے، اجلاس میں پہنچنے کے بعد وہاں سے جانے کے لیے کہا گیا۔ موئترا کے مطابق جاوید شمیم کو بھی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور ایس ٹی ایف کی نمائندگی گورو شرما نے کی۔

مہوا موئترا نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ 20 اگست کو سلی گوڑی میں سرحدی سلامتی کے جائزہ اجلاس کے دوران بھی وقار رضا کو شرکت نہ کرنے کے لیے کہا گیا، جبکہ سُکیش کمار جین اور دارجلنگ کے ضلع مجسٹریٹ ہری شنکر پنیکر کو مرکزی وزیر داخلہ کے استقبال اور رخصتی کے لیے تعینات کیا گیا۔

اسی طرح نئے فوجداری قوانین سے متعلق ایک نمائش میں جاوید شمیم کو مبینہ طور پر شرکت سے روک دیا گیا اور گورو شرما نے دوبارہ ایس ٹی ایف کی نمائندگی کی۔ مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو لکھے گئے خط میں ان واقعات کو مبینہ طور پر ایک ایسے پیٹرن کے طور پر پیش کیا ہے جس میں مسلم افسران کو سرکاری ذمہ داریوں سے الگ رکھا گیا۔

ان کے بقول ان تینوں افسران میں ایک بات مشترک ہے جو انہیں ان ساتھی افسران سے الگ کرتی ہے جنہیں پروگراموں میں موجود رہنے کی اجازت دی گئی، اور وہ ان کا مذہب ہے۔ یہ مؤقف موئترا کی جانب سے لگایا گیا الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

موئترا نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ اگر سرکاری افسران کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر سرکاری ذمہ داریوں سے الگ کیا گیا ہے تو یہ ہندوستانی آئین کی دفعات 14، 15، 16، 21 اور 25 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے میں درج اصولوں سے متصادم ہوگا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے حکومت ہند سے اس معاملے میں وضاحت طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ دوروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹور ڈائری اور دیگر سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھنے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ ان الزامات کی حقیقت جانچنے میں مدد مل سکے۔

یہ معاملہ پہلی مرتبہ اس وقت نمایاں ہوا جب مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پر مسلم افسران کو مبینہ طور پر سرکاری پروگرام سے دور رکھنے کا مسئلہ اٹھایا۔ اس کے بعد ان کے خلاف ڈائمنڈ ہاربر میں شکایت درج کی گئی اور سائبر کرائم پولیس نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

مہوا موئترا نے اپنے خط میں اس معاملے کو صرف تین افسران تک محدود نہ رکھتے ہوئے سرکاری اور سکیورٹی اداروں میں مذہبی غیر جانب داری کے وسیع تر سوال سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ ملک کے متعدد اہم سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کرتی ہے، اس لیے اگر کسی سرکاری افسر کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر سرکاری ذمہ داری سے دور رکھنے کا الزام درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات اقلیتی برادری کے سرکاری اداروں پر اعتماد کے حوالے سے بھی اہم ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں