ڈی ناگیندر اسمبلی رکنیت سے نااہل، تلنگانہ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے خیریت آباد کے رکن اسمبلی دَانم ناگیندر کی رکنیت سے متعلق پارٹی انحراف کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اسمبلی رکنیت کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس میں دَانم ناگیندر کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ دَانم ناگیندر 23 اپریل 2024 سے تلنگانہ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے نااہل قرار پاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خیریت آباد اسمبلی نشست خالی ہوگئی ہے۔

چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کی نقل تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر، اسمبلی سکریٹری اور الیکشن کمیشن کو بھیجی جائے۔ دَانم ناگیندر نے دسمبر 2023 میں منعقدہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر خیریت آباد حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ریاست میں کانگریس حکومت کے قیام کے بعد 2024 میں وہ کانگریس سے وابستہ ہوگئے اور اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے سکندرآباد پارلیمانی حلقہ سے مقابلہ کیا۔

وہ لوک سبھا انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکے، تاہم اس دوران انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ اسی معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے ان کے خلاف آئین کی دسویں شیڈول میں موجود انسدادِ انحراف قانون کے تحت نااہلی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

ڈی ناگیندر کی نااہلی کا معاملہ پہلے اسمبلی اسپیکر کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔ بی آر ایس رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی اور بی جے پی قانون ساز پارٹی کے رہنما الیٹی مہیشور ریڈی نے ان کی نااہلی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ اسپیکر جی پرساد کمار نے ان درخواستوں پر کارروائی کے بعد دَانم ناگیندر کو نااہل قرار دینے سے انکار کردیا تھا اور درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کوشک ریڈی اور مہیشور ریڈی نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ناگیندر نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد نہ صرف کانگریس میں شمولیت اختیار کی بلکہ اسمبلی رکنیت برقرار رکھتے ہوئے کانگریس کے ٹکٹ پر سکندرآباد لوک سبھا انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ ان کے مطابق یہ عمل خود بی آر ایس کی رکنیت رضاکارانہ طور پر ترک کرنے کے مترادف تھا اور دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کا سبب بنتا ہے۔

ہائی کورٹ نے اب اسپیکر کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے کالعدم قرار دیا اور ناگیندر کو 23 اپریل 2024 سے نااہل قرار دیا۔ عدالت کے فیصلے میں سکندرآباد لوک سبھا حلقے سے کانگریس امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کے معاملے کو اہم قرار دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نااہلی کے نتیجے میں خیریت آباد اسمبلی نشست خالی ہوگئی ہے۔

عدالت میں ناگیندر کے وکیل کی جانب سے فیصلے کو کچھ مدت کے لیے مؤخر رکھنے کی درخواست بھی کی گئی تاکہ وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرسکیں، تاہم بنچ نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا اور حلقے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم پر روک لگانے سے انکار کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں