آندھراپردیش کے گنٹور میں گدھے کے گوشت کو بیچنے والوں کے خلاف پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق گنٹور میں کچھ گدھے کے گوشت کا کاروبار بڑے پیمانہ پر چل رہا تھا جس کے خلاف ایک این جی او نے آواز اٹھائی اور پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔
پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے گدھے کا گوشت فروخت کرنے والوں کو گرفتار کرلیا، اس دوران این جی او کے کارکنوں اور گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف بحث بھی ہوئی۔
جانوروں کے تحفظ سے متعلق کام کرنے والی این جی او کے مطابق گنٹور شہر میں گدھے کا گوشت بے دریغ فروخت کیا جارہا تھا جس پر این جی او نے برہمی کا اظہار کیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہر اتوار کو گدھے کے گوشت کی فروخت بڑے پیمانہ پر کی جارہی تھی۔ بلیو کراس سوسائٹی کے رکن جگو سریش نے بیچنے والوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے گوشت فروخت کرنے والوں کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ فوڈ کنٹرول حکام نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے جبکہ آندھرا پردیش کے کچھ علاقوں میں گدھے کے گوشت سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کمر درد اور دمہ کے علاج کےلئے مفید ہے اور اسے اسے جنسی طاقت بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔گنٹور کے علاوہ پرکاسم، کرشنا، مغربی گوداوری اور گنٹور اضلاع میں گدھے کا گوشت بڑے پیمانے پر فروخت ہوتا ہے۔ ہندوستان میں آئی پی سی کی دفعہ 429 کے تحت گدھوں کو مارنے پر پابندی عائد ہے۔ اس قانون کے تحت پانچ سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کے تحت گدھے کے گوشت کا استعمال غیر قانونی ہے۔


