(دکن فائلز ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی جو امریکہ کے دورہ پر ہیں سے وائٹ ہاؤس میں امریکی میڈیا نے ایک ملاقات کے دوران ہندوستان میں جمہوریت، اقلیتوں کے حقوق اور آزادی رائے کے حق سے متعلق سوالات کیے۔
Watch: PM Modi's Savage Reply When Asked About Muslim Minority Rights In India #democracy #PMModi #PMModiUSVisit #UnitedStates pic.twitter.com/XvKjz12WYO
— News18 (@CNNnews18) June 23, 2023
جب میڈیا کے نمائندوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں پوچھا تو وزیراعظم مودی نے کہا کہ آپ کے سوال نے مجھے حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور جمہوریت کی روح ان کے خون میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوری جذبے کی سانس بن کر زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت وہ ہے جو ہندوستان کے آئین میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اقدار اور انسانی حقوق کے بغیر جمہوریت کا تصور نہیں ہے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ہندوستان میں مذہب، ذات پات کی کوئی تفریق نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس ان کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت میں مذہب، ذات پات، علاقہ اور عمر سے بالاتر ہو کر سب کے لیے یکساں رسائی ہو گی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ایک پریس کانفرنس میں جب اُن سے یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا وہ اپنے ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی بہتری اور اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں؟‘ تو نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انہیں بہتر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو جواب دیا کہ ’ہمارے آئین، ہماری حکومت اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت میں ذات، عقیدہ، مذہب، جنس، کسی تفریق کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔


