سفید احرام میں حجاج کرام کے قافلے، تلبیہ، سلام، تسبیحات ، دعائیں ، صدائیں اور جواب کی گھڑی کا انتظار ، یہ وہ مناظر ہیں جو آج میدان عرفات میں چار سو پھیلے ہیں۔
” لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك” ۔۔ علاقے کی فضا تلبیہ کی آواز سے گونج رہی ہے۔
یہ صدائیں شام تک جبل عرفات میں سنائی دیں گی اور غروب آفتاب کے بعد دعائیں اور مناجات کرتے حجاج کرام مزدلفہ کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں ، جہاں وہ رات بھر قیام کریں گے۔
جبل رحمت یا جبل عرفات مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ہے۔یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس پر عرفات کے دن حجاج وقوف کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے اوپر ایک چٹان پر بیٹھے تھے، اور فرمایا: “میں نے یہاں وقوف کیا اور پورا عرفہ وقوف کا مقام ہے۔”
اس پہاڑ کو جبل رحمت کہا جاتا ہے۔اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے جبل إلال اور النابت بھی کہا جاتا ہے۔شاید یہ آخری نام ان چٹانوں کو دیا گیا تھا جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف کیا تھا۔
جبل رحمت اپنے اردگرد کے پہاڑع سلسلے کی نسبت چھوٹا ہے، اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے، اور اس کی چوٹی پر 4 میٹر اونچائی والا مینار قائم ہے۔
حجۃ الوداع کی حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹنی القصواء پر سوار ہوئے اور وقوف کے مقام پر پہنچے، جہاں قبلے کی سمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی چٹانوں پر بیٹھ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے تک وہاں رکے رہے، اور فرمایا: “میں نے یہاں وقوف کیا اور پورا عرفہ وقوف کا مقام ہے۔
ان پر آیت قرانی نازل ہوئی: “الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا”.
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر چن لیا ہے۔”
حج کے رکن اعظم ’وقوف عرفات‘ کی ادائی کے لیے 25 لاکھ کے قریب فرزندان اسلام میدان عرفات میں جمع ہو گئے ہیں جہاں وہ مسجد نمرہ میں عبادت کے ساتھ ساتھ عرفات کے میدان میں خطبہ حج بھی سنیں گے۔
لاکھوں عازمین حج نے پیر کو پیدل یا بسوں میں سوار ہو کر مکہ مکرمہ کے قریب منیٰ میں بڑی خیمہ بستی کے شہر میں سالانہ حج کی ادائی کے لیے جمع ہوئے ہیں جہاں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حج حاضری کے ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔
اتوار کو منیٰ جانے والوں نے روانگی سے قبل حج کے اہم ترین ارکان میں سے ایک طواف القدوم انجام دیا البتہ پہلے سے مکہ مکرمہ آنے والوں کو یہ طواف ادا نہیں کرنا پڑتا۔
اتوار کی رات مکہ مکرمہ سے منیٰ تک پانچ کلومیٹر کا راستہ زائرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو پیدل یا بسوں پر سفر کر رہے تھے۔
پیر کو حجاج کرام نے حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پورا دن اور رات منیٰ میں گزاری جسے یوم ترویہ کہا جاتا ہے۔
آج منگل کو میدان عرفات میں حج کے رکن اعظم کی ادائی کے بعد سورج غروب ہوتے ہی زائرین عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع مزدلفہ کا رخ کریں گے اور رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔
اس کے بعد مزدلفہ سے کنکریاں جمع کرنے کے بعد وہ جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اور حج کے آخری رکن کی ادائی کے لیے واپس خانہ کعبہ آ کر طواف کرتے ہیں۔


