جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کو ہجوم کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے معاملے میں اے ڈی جی ون عدالت نے فیصلہ سنایا۔ معزم جج امت شیکھر نے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے 10 شدت پسندوں کو مجرم قرار دیا۔
2019 میں سرائے کیلا تھانہ کے حدود میں تبریز انصاری کی لنچنگ کی گئی تھی۔ اس معاملہ میں پانچ دفعات کے تحت دس شدت پسندوں کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کیس کے دو ملزمین کو ثبوتوں کی کمی کے باعث بری کردیا گیا۔
عدالت کی جانب سے 5 جون کو مجرمین کی سزا سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔ جن ملزمین کو سزا سنائی جائے گی ان میں پرکاش منڈل عرف پپو منڈل، کمل مہتو، مدن نائیک، اتل مہالی، مہیش مہالی، وکرم منڈل، چامو نائک، پریم چند مہالی، سنامو پردھان اور بھیم سین منڈل شامل ہیں۔
تبریز انصاری کو انتہاپسندوں نے ہجومی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا تھا جس کے بعد تبریز انصاری کی اہلیہ شائستہ پروین نے تقریباً سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جمشید پور سے کھرساواں آنے کے دوران دھات کی ڈیہہ گائوں میں روک کر تبریز انصاری کو بجلی کے کھمبے سے باندھ کر پٹائی کی گئی، دوسرے روز پولس تبریز کو تھانہ لے گئی اور جیل بھیج دیا، 22 جون کو جیل میں اچانک تبریز کی طبیعت خراب ہوگئی جس کے بعد اسے صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی۔
واضح رہے کہ تبریز انصاری کو 18 اور 19 جون کو ایک ہجوم نے بری طرح مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کھمبے سے باندھنے کر نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ اسے ‘جئے شری رام’ اور ‘جئے بجرنگ بلی’ کا نعرہ لگانے کےلئے بھی مجبور کیا گیا تھا۔ واقعہ کے کچھ عرصہ قبل ہی تبریز کی شادی ہوئی تھی۔


