آندھراپردیش کے پرکاشم ضلع میں ایک دلخراش بس حادثہ پیش آیا جس میں 7 افراد جاں بحق ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران درشی کے قریب بس ساگر نہر میں جاگری۔ اس حادثے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں چار خواتین، ایک معصوم بچی اور دو ضعیف حضرات شامل ہیں۔ دلخراش حادثہ میں مزید 30 افراد زخمی ہوئے۔
بس شادی کی تقریب کے لیے پوڈیلی سے کاکیناڈا جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور نے بس کا کنٹرول کھو دیا اور بس نہر میں جا گری۔ حادثے کے وقت بس میں 45 باراتی سوار تھے۔ حادثہ کے بعد مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر بس کو کرین کی مدد سے باہر نکالا۔
مرنے والوں میں تین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، دلہن کی دو پھوپھی، دادی اور پھوپھی کی بہو مرنے والوں میں شامل ہیں۔ مرنے والوں میں سات سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ مرنے والوں کی شناخت عبدالعزیز (65)، عبدالحنی (60)، شیخ رمیز (48)، نورجہاں (58)، جانی بیگم (65)، شیخ شبینہ (35) اور شیخ حنا (6) کے طور پر ہوئی ہے۔
پرکاشم ضلع کی ایس پی ملیکا گرگ نے بتایا کہ ‘حادثہ کے فوری بعد امدادی اقدامات کئے گئے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بچالیا گیا اور زخمیوں کو فوری طور پر اونگولو کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دلہن کے والد سراج اور دولہے کے والد منظور احمد دونوں سعودی عرب میں ملازم ہیں اور اپنے بچوں کی شادی کےلئے آبائی مقام آئے ہوئے ہیں، ایسے خوشگوار ماحول میں دلخراش حادثہ کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
چیف منسٹر وائی ایس جگن نے بس حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کا حکم دیا۔ مرنے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کا وعدہ کیا۔


