رامپور کورٹ نے ہیٹ اسپیچ معاملہ میں اعظم خان کو دو سال کی سزا سنائی

سماج وادی پارٹی کے قدآور رہنما محمد اعظم خان کو آج عدالت نے ہیٹ اسپیچ معاملہ میں مجرم قرار دیا۔ رامپور کورٹ نے اعظم خان کو دو سال قید اور ڈھائی ہزار روپے جرمانے عائد کیا۔ اعظم خان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، رامپور ضلع کے انتخابی افسر اور انتخابی کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔

اعظم خان پر الزام تھا کہ انہوں نے 18 اپریل کو 2019 کے لوک سبھا انتخاب کے دوران دھمورا میں ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے آئینی عہدوں پر فائز افراد کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ اس تقریر کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی جس کے بعد اے ڈی او کوآپریٹو انل چوہان نے اعظم خان کے خلاف شہزاد نگر میں مقدمہ درج کرایا تھا۔

قبل ازیں ایک اور ہیٹ اسپیچ مقدمہ میں اعظم خان کو سزا ہوچکی ہے۔ ان پر اپریل 2019 میں نگریا گاؤں میں عوامی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی اور سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ رامپور کے اُس وقت کے ایڈمنسٹریٹو افسروں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں کیس درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں انھیں تعزیرات ہند کی دفعات 153 اے، 505، اور عوامی نمائندہ ایکٹ 1951 کی دفعہ 125 کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت نے تب اعظم خان کو 2 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کی وجہ سے انھیں گزشتہ سال اسمبلی کی رکنیت گنوانی پڑ گئی تھی۔ اس فیصلے کو اعظم خان نے چیلنج پیش کیا تھا۔ پھر ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج امت ویر سنگھ نے اِس سال مئی میں فیصلہ سناتے ہوئے رامپور کی اسپیشل ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے ذریعہ اکتوبر 2022 میں سنائے گئے حکم کو رد کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں