مسجد کے امام پر شرپسندوں کا حملہ، ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر کیا گیا مجبور، مارپیٹ کے بعد جان سے مارنے کی دھمکی دیکر چھوڑا گیا

اترپردیش کے باغپت میں کچھ شرپسندوں نے ایک مسجد کے امام پر حملہ کردیا اور انہیں مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ امام صاحب کو غنڈوں نے ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا۔

اطلاعات کے مطابق باغپت میں ایک مسجد کے امام کو جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا تاہم جب انہوں نے اس سے انکار کردیا تو شرپسندوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس معاملہ میں اترپردیش پولیس نے تینوں ملزمین کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امام صاحب مجیب الرحمان پر ہوئے حملہ پر شروع میں کوئی پولیس کاروائی نہیں کی گئی جبکہ پولیس نے اس واقعہ کو نظر انداز کردیا تھا تاہم جب اس معاملہ کی شکایت ایس پی سے کی گئی تو اگلے روز شکایت درج ی گئی اور پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمین کو گرفتار کرلیا۔

مجیب الرحمان نے بتایا کہ ’مجھ پر حملہ کرنے والوں کو میں نہیں پہچانتا، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے میرے حلیہ کو دیکھ کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ حملہ کے وقت میں کرتا پائجامہ پہنا تھا اور سر پر ٹوپی تھی۔ امام صاحب نے کہا کہ ’شرپسندوں نے مجھے راستہ میں روکا اور میری داڑھی کھینچنے لگے۔ مجھے ہندوؤں کا مذہبی نعرہ لگانے کےلئے مجبور کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ سارے واقعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ بدمعاشوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر پولیس میں اس معاملہ کی اطلاع دی تو مجھے جان سے مار دیں گے۔

پولیس نے اس معاملہ میں تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے جن کی شناخت جتیندر شرما، راول چوہان اور نیرج کمار کے طور پر کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں