گیانواپی مسجد میں اے ایس آئی سروے پر سپریم کورٹ نے روک لگائی، مسجد کمیٹی کو الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ

سپریم کورٹ نے وارانسی کی گیانواپی مسجد میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے کئے جارہے سروے پر آج سے دو دن تک کےلئے روک لگادی۔

مسجد کی انتظامی کمیٹی نے عدالت اعظمیٰ سے رجوع ہوتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ سروے کے نتیجے میں تاریخی مسجد کمپلیکس میں کھدائی کی جاسکتی ہے۔

تاہم، مرکز نے عدالت کو یقین دلایا کہ سروے کے دوران کسی بھی طرح سے ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایک اینٹ بھی ہٹائی جائے گی۔ اس طرح کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ سروے پلان میں صرف پیمائش، فوٹو گرافی اور ریڈار اسٹڈیز شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے گیانواپی مسجد کمیٹی کو الہ آباد ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔

واضح رہے کہ مسجد کمیٹی نے وارانسی کورٹ کی جانب سے گیانواپی مسجد میں اے ایس آئی کے ذریعہ سروے کرانے کی اجازت کے بعد سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔

آج صبح 7 بجے اے ایس آئی کی ٹیم مسجد کے احاطہ میں پہنچ گئی اور سرے کا آغاز کردیا تھا تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے سروے پر 26 جولائی شام پانچ بجے تک روک لگادی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں