سمبھاجی بھڑے نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے گاندھی جی سے متعلق توہین آمیز بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’گاندھی جی کا باپ مسلمان تھا‘۔ سمبھاجی کے متنازعہ بیان کے بعد کانگریس نے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے اسمبلی میں اس معاملہ کو اٹھایا۔
اطلاعات کے مطابق شری شیو پرتسھان ہندوستھان سنستھان کے بانی منوہر عرف سمبھاجی بھڑے نے امراوتی میں ایک پروگرام کے دوران بابائے قوم گاندھی جی کے بارے میں انتہائی توہین آمیز بیان دیا۔ان کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’موہن داس، کرم چند کی چوتھی بیوی کا بیٹا تھا، کرم چند نے ایک مسلم زمیندار کی بڑی رقم چرائی تھی جس کے ساتھ وہ کام کرتا تھا، چنانچہ مشتعل زمیندار نے کرم چند کی بیوی کو اغوا کرلیا اور اسے بیوی جیسا سلوک کرتے ہوئے اپنے ساتھ رکھا۔ کرم چند تین سالتک مفرور تھا، اسی دوران موہن داس پیدا ہوا۔تو کرم چند گاندھی موہن داس کے حقیقی باپ نہیں ہے بلکہ وہ اسی زمیندار کی اولاد ہے‘۔
کانگریس نے فوری طور پر سمبھاجی بھڑے کو گرفتار کرنے کا مہاراشٹرا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ وہیں گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے بھڑے کے بیان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ’یہ بھڑے کی زبان ہے اور آواز آر ایس ایس کی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں سے متعلق کیا کہا جاسکتا ہے، یہ لوگ آر ایس ایس کے ہیں اور گاندھی جی کا قتل بھی ایسے ہی لوگوں نے کیا تھا۔
ایک اور اطلاع کے مطابق مہاراشٹر کے امراوتی ضلع میں پولیس نے ہفتہ کو دائیں بازو کے کارکن سمبھاجی کے خلاف گاندھی جی کے بارے میں ان کے مبینہ تضحیک آمیز تبصروں پر مقدمہ درج کیا ہے، کانگریس کی جانب سے اسمبلی میں معاملہ اٹھانے کے ایک دن بعد یہ کاروائی کی گئی۔راجہ پیٹھ پولیس نے سمبھاجی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153A (مذہب، نسل، جائے پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا، اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے منفی حرکتیں کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔


