تریپورہ میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر اسکول میں داخل ہونے سے روکنے پر اعتراض کرنے والے دسویں جماعت کے مسلم طالب علم کو وشوا ہندو پریشد کے غنڈوں نے تشدد کے نشانہ بنایا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق دسویں جماعت میں زیرتعلیم مسلم لڑکے کو گھسیٹ کر اسکول کے باہر لے جایا گیا اور اسکول کے سامنے مارا پیٹا گیا، جبکہ اس موقع پر اسکول ہیڈ ماسٹر سمیت دیگر ٹیچرس و اسٹاف وہیں موجود تھے اور تمام لوگوں نے وشوا ہندو پریشد کے شدت پسندوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
In Tripura, schoolgirls were being prevented from entering their school in hijabs by right wing groups. When a boy protested on behalf of them, he was thrashed.
A couple of days back, girls were being stopped from wearing a hijab in a school in Mumbai.
Why do these events keep…
— Dr. Shama Mohamed (@drshamamohd) August 5, 2023
واقعہ کے بعد مسلم طالب علم کو ہسپتال منقل کیا گیا جہاں اسکا علاج کیا گیا۔ واشوا ہندو پریشد کی جانب سے کئے گئے تشدد کے بعد مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا گیا جس کے بعد علاقہ میں کشیدگی دیکھی گئی۔
اسکول کے ذمہ دار نے بتایا کہ کچھ روز قبل وی ایچ پی سے وابستہ کچھ لوگ اسکول آئے تھے اور انہوں نے اسکول کے احاطے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر اعتراض جتایا تھا اور ہیڈماسٹر کو حجاب پر پابندی عائد کرنے کےلئے دھمکی دی تھی۔


