پلول کی ہندو مہا پنچایت میں انتہائی نفرت انگیز تقاریر، پولیس کی موجودگی میں ایک خاص طبقہ کو دھمکیاں دی گئیں

ہریانہ کے نوح سے کچھ دوری پر واقع پلول میں آج ہندو مہاپنچایت منعقد ہوئی جس میں انتظامیہ کی ممانعت کے باوجود نفرت انگیز تقاریر کی گئیں جسے پولیس افسران نے بے بسی سے سنا لیکن کسی افسر نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ستیہ ہندی، این ڈی ٹی وی، دی انڈین ایکسپریس اور انڈیا ٹوڈے نے ہندو مہاپنچایت میں کی گئی نفرت انگیز تقاریر کی رپورٹنگ کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پلول کے ایس پی لوکندر سنگھ نے خود یہ مانا کے مہاپنچایت میں کچھ مقررین نے پولیس کی موجودگی میں کھلی دھمکیاں دی ہیں، منتظمین کو نفرت انگیز تقریر نہ کرنے اور 500 سے زیادہ کی بھیڑ نہ ہونے کی شرط پر مہاپنچایت کی اجازت دی گئی تھی لیکن مقررین نے انتباہ کو نظر انداز کر دیا۔

ہریانہ کے پلول ضلع کے پونڈری گاؤں میں آج منعقدہ ہندو مہاپنچایت میں جم کر ہیٹ اسپیچ دی گئی جبکہ قبل ازیں انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی حرکت نہ کرنے کےلئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ہندو مہا پنچایت میں وشو ہندو پریشد کی جانب سے 28 اگست کو دوبارہ برج منڈل جل ابھیشیک یاترا نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرو ہندو سماج نامی گروپ کے زیر اہتمام ‘سروا جٹیے مہاپنچایت’ میں 9 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں نوح فسادات کی این آئی اے کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔

مہاپنچایت میں ہریانہ کے پلول، ہاتھین، منڈکولا، میوات، ہوڈل، سوہنا، گڑگاؤں کے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی گئی۔ قرارداد میں فسادات میں مرنے والوں کو ایک کروڑ روپئے، زخمیوں کو پچاس لاکھ روپئے معاوضہ دینے اور نقصان کی ملزمان سے وصولی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نوح ضلع کو برخاست کرنے اور علاقہ کو گاؤ کشی سے پاک بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں نوح علاقہ میں نیم فوجی دستے کا ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ ہندو مہاپنچایت میں نوح اور پلول کے لوگوں کو اپنے دفاع کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کےلئے بھی قرارداد منظور کی گئی اور روہنگیا سمیت دیگر تمام غیرملکیوں کو نوح ضلع سے نکال دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ انتظامیہ نے پہلے تو مہاپنچایت کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا تاہم بعد میں متعدد شرائط کے نفاذ کے ساتھ مہاپنچایت کی اجازت دی گئی۔ انتظامیہ نے مہاپنچایت میں نفرت انگیز تقریر نہ کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مہاپنچایت میں کچھ مقررین کی جانب سے نفرت انگیز تقریر کی گئی اور کھلے عام دھمکیاں دی گئیں۔ ایک مقرر نے اپنی بے لگام تقریر میں کہتا ہے کہ ’اگر انگلی اٹھائیں گے تو ہم ہاتھ کاٹ دیں گے‘۔ اسی طرح ایک اور شدت پسند مقرر نے نوجوان کو مخاطب ہوکر کہا کہ ’موجودہ حالات کرو یا مرو کی طرح ہے، اس نے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کےلئے کہا۔ اس موقع پر گاندھی جی کو بھی کوسا گیا اور کہا گیا کہ ان کی وجہ سے ہی ملک کی تقسیم کے باوجود مسلمان میوات میں رہ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں