ہماچل پردیش میں بارش کی تباہ کاریاں جاری، 21افراد ہلاک

ہماچل پردیش میں شدید بارش سے بڑی تباہی ہوئی ہے۔ شملہ میں چٹانوں کے ٹکڑے گرنے اور سولن میں بادل پھٹنے سے 21افراد کی موت ہوگئی۔ شملہ کے مضافاتی علاقے میں آج صبح چٹانوں کے ٹکڑے گرنے کے ایک بڑے واقعے میں قدیم شیو باڑی مندر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اِس واقعے میں تقریباً دو درجن افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ اِن میں ایک ہی کنبے کے سات افراد بھی شامل ہیں۔

بچاؤ اور امدادی ٹیموں نے ملبے سے تین لاشیں باہر نکالی ہیں۔ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ مندر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اور پہاڑی سے بار بار چٹانوں کے ٹکڑے گرنے کی وجہ سے راحت کارروائی میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔ ہماچل پردیش میں مختلف مقامات پر چٹانوں کے ٹکڑے گرنے اور سیلاب جیسے واقعات کی خبریں مل رہی ہیں۔ ہماچل پردیش میں پچھلے کئی گھنٹوں سے ہورہی لگاتار بارش کے سبب معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مختلف مقامات پر چٹانوں کے ٹکڑے گرنے کے واقعات اور سیلاب کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ابھی تک ملی تازہ جانکاری کے مطابق پچھلے 24 گھنٹے کے دوران شدید بارش کے سبب دو شاہراہوں سمیت تقریباً 452 سڑکیں بند ہیں۔ دریا اور نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ شدید بارش کے سبب ریاست کے مختلف علاقوں میں بجلی اور پانی کی سپلائی میں رخنہ پڑا ہے اور جوڑنے والی سڑکوں پر ٹریفک نقل و حمل کو معطل کردیا گیا ہے۔

آفات کے بندوبست سے متعلق ریاستی اتھارٹی نے لوگوں سے الرٹ رہنے اور سیلاب ، چٹانوں کے ٹکڑے گرنے یا دیگر ایمرجنسی حالات کے بارے میں متعلقہ حکام کو جانکاری دینے کیلئے کہا ہے تاکہ بروقت امدادی کارروائی کی جاسکے۔ شملہ میں ایک مندر پر مٹی کے تودے گرے۔ اس واقعہ میں کچھ لوگوں کے ملبہ میں دب جانے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں وہاں پہنچ کر راحت اور بچاؤ کام شروع کیا۔ ابھی تک 9 نعشیں نکالی گئی ہیں۔ ملبہ کے نیچے مزید 20 افراد کے ہونے کی اطلاع ہے۔ حادثہ کے وقت مندر میں 50 سے زائد افراد موجود تھے۔ اس واقعہ پر چیف منسٹر سکھویندرسنگھ سکھو نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں