ملک بھر میں 77ویں یوم آزادی کی تقریبات کا شایان شان طریقے اہتمام جاری ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کے لال قلعہ پر قومی پرچم لہرایا۔ یہ دسویں بار ہے جب مودی نے لال قلعہ پر قومی پرچم لہرایا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے قوم سے خطاب کیا۔ اس سے پہلے مودی نے راج گھاٹ پر گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس پروگرام میں متعدد مرکزی وزراء نے شرکت کی۔
اس موقع پر مودی نے ملک کے عوام کو 77ویں یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزادی بہت سی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج 77 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کے فصیل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، منی پور کے عوام کے ساتھ ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہاں مسائل کا پرامن حل نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ منی پور میں بے چینی اور تشدد کا ایک دور رہا ہے اور خواتین کے وقار اور عزت پر حملے کی خبریں موصول ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کے عوام کچھ عرصے سے امن برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن کے عمل کو آگے برقرار رکھا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا ،’’ ریاست اور مرکزی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مل کر کام کررہی ہے اور آگےبھی کرتی رہے گی۔‘‘
مودی نے کہا کہ منی پور تشدد میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد امن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن تشدد کا جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک منی پور کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہم منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کے بعد دنیا کا ہندوستان پر ایک نیا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی معیشت میں پانچویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے آج 77ویں یوم آزاد ی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے اپنے 140 کروڑ پریوار جن (اہل خانہ) کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ملک پر اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔
مودی نے ہندستان کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والی ہر ایک عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں چلائی جانے والی عدم تعاون تحریک اور ستیہ گرہ تحریک اور بھگت سنگھ سکھدیو اور راج گرو اور لاتعداد بہاردروں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اس نسل کے تقریباً سبھی لوگوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا۔
ملک آج اپنا 77 واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دلی میں لال قلعے پر قومی پرچم لہرایا اور لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے پاس ڈیموگرافی، ڈیموکریسی اور ڈائیورسٹی یعنی آبادی، جمہوریت اور تنوع ہے۔ اِس تریوینی میں بھارت کے ہر خواب کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔
مودی نے کہا کہ امرت کال کے اِس پہلے سال کے دوران بھارت کے پاس زندگیوں کو وقف کرنے اور اگلے ہزار برس کی تقدیر سنوارنے کے لئے کام کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ترقی اور عروج کے نتیجے میں ملک پر عالمی اعتماد کی تجدید ہوئی ہے۔
وزیرا عظم نے کہا کہ بھارت کی ترقی کو صرف دلی ، ممبئی اور چنئی جیسے بڑے شہروں نے ہی نہیں بڑھایا ہے بلکہ دوسرے درجے کے شہروں کے نوجوان بھی ملک کی ترقی میں یکساں یکساں اثر ڈال رہے ہیں۔ مودی نے نوجوانوں سے کہا کہ اُن کے لئے مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے اور ملک انہیں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کیلئے تیار ہے جیسا وہ چاہتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ پورا ملک منی پور کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شمال مشرق بالخصوص منی پور میں تشدد کے دوران بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں اور ماﺅں اور بیٹیوں کا وقار بھی کافی مجروح ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں رفتہ رفتہ امن قائم ہورہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے، اُن سبھی افراد کو یاد کیا اور سلام پیش کیا ، جنہوں نے ملک کی جدوجہد آزادی میں اپنا تعاون دیا اور قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج 15 اگست کو ملک انقلابی رہنما سری اربندو کا 125 واں یومِ پیدائش منا رہا ہے۔ مودی نے کہا کہ سوامی دیانند سرسوتی کی 150 ویں جینتی ، رانی دُرگا وتی کی 500 ویں جینتی اور بھکتی تحریک کی اہم شخصیت میرا بائی کی 525 ویں برسی بھی اس سال منائی جانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ملک کے افراد ، آج یومِ آزادی کی تقریب منا رہے ہیں ، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اب دنیا میں آبادی کے اعتبار سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اصلاح کارکردگی اور کایا پلٹ ملک میں تبدیلی لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ ہموطنوں کی قوت و صلاحیت عالمی نظام میں تبدیلی کو شکل دینے میں نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ مودی نے کہا کہ کووڈ 19 عالمی وباءکے بعد ایک نیا عالمی نظام ، ایک نئی جغرافیائی سیاسی، صورتحال ابھر رہی ہے اور جغرافیائی سیاست کی تعریف بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجہ بندی سے متعلق سبھی عالمی ادارے بھارت کی ستائش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی صلاحیت اعتماد ہے۔ لوگوں کا حکومت میں اعتماد، ملک کے روشن مستقبل میں اعتماد اور پوری دنیا کا بھارت میں اعتماد۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موقع ہمارے پاس ہے اور ہمیں اس موقع کو جانے نہیں دینا چاہیئے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جی 20 سربراہ کانفرنس اور کئی جی 20 تقریبات ملک بھر میں منعقد کر رہا ہے ۔مودی نے کہا کہ پوری دنیا اب بھارت کے تنوع اور صلاحیتوں کو انتہائی تجسس کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک روپیہ شہریوں کی بہبود کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اور شہری ، ملک پہلے کے جذبے کے ساتھ متحد ہیں، جو گہرے اثرات مرتب کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ عالمی وباءکے بعد صحت کی مجموعی نگہداشت وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔
مودی نے کہا کہ آیوش کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور آئندہ وقتوں میں ٹیکنالوجی اس پر اثرانداز ہوگی اور بھارت اس میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 میں ، اُن کی حکومت اقتدار میں آئی تھی ، عالمی معیشت نظام میں بھارت کی پوزیشن دسویں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج 140 کروڑ بھارتیوں کی کوششوں کی بدولت بھارت پانچویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ مودی نے کہا کہ بدعنوانی کی لعنت ، جس نے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا ، ان کی حکومت نے اسے ختم کردیا ہے اور ایک مضبوط معیشت تشکیل دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں 13 کروڑ 50 لاکھ غریب افراد ، غریبی کی سطح سے باہر آئے ہیں اور اب وہ نئے متوسط اور متوسط طبقے کا حصہ بن گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اُن کی حکومت روایتی ہنر یافتہ افراد کیلئے اگلے مہینے سے 13 ہزار سے 15 ہزار کروڑ روپے کے مختص فنڈ کے ساتھ وِشو کرما اسکیم کا آغاز کرے گی۔ مودی نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت جن اوشدھی کیندروں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھاکر 25 ہزار تک کرے گی۔
مودی نے ملک کی ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کا اُن کی صلاحیت کے لئے شکریہ ادا کیا۔ بھارت زراعت کے شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں کا بھی اُن کی کوششوں کیلئے شکریہ ادا کیا۔ بھارت جدیدیت کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے ورکروں اور مزدوروں کا بھی اُن کے تعاون کیلئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ابھی تک کورونا وبا کے اثر سے نہیں نکل پائی ہے۔ اِس کے بعد جنگ نے ایک اور بحران پیدا کردیا ہے۔ مودی نے کہا کہ آج دنیا کو مہنگائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اِس مہنگائی نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے تمام کوششیں کیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکار شہریوں پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے اور آئندہ بھی قدم اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت قابل تجدید توانائی، ماحولیات کے لئے سازگار ہائیڈروجن، گہرے سمندر کی کھوج سے لے کر خلاءکے شعبے تک ہر سمت میں کام کررہا ہے۔ مودی نے کہا کہ وندے بھارت اور بلیٹ ٹرین کے ساتھ ریلویز کی جدیدکاری کا کام جاری ہے اور میٹرو کنکٹیوٹی میںبھی اضافہ ہورہا ہے۔
مودی نے کہا کہ ایک چیز جو ملک کو آگے لے جائے گی وہ خواتین کی قیادت میں ترقی ہے۔ مودی نے کہا کہ آج ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کے پاس شہری ہوا بازی کے شعبوں میں سب سے زیادہ پائلٹس ہیں اور خواتین سائنسداں چندریان مشن کی قیادت کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ٹوئنٹی ممالک بھی خواتین کی قیادت میں ترقی کی اہمیت کو تسلیم کررہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے اب تک کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھارتیہ عوام ایک ویژن کے تئیں خود کو وقف کرتے ہیں تو وہ وقت سے پہلے اپنی منزل حاصل کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کووڈ ٹیکہ کاری کا 200 کروڑ کا نشانہ حاصل کیا ۔ ہمارے ملک نے 5G کے آغاز میں سب سے تیزی سے کام کیا۔ 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کے مقاصد کو 2021-22 میں حاصل کرلیا گیا۔ ایتھنول کی 20 فیصد آمیزش کے نشانے کو وقت سے پانچ برس پہلے ہی حاصل کرلیا گیا اور برآمدات کو 500 ارب ڈالر تک لے جانے کے نشانے کو بھی وقت سے پہلے پورا کرلیا گیا۔ مودی نے کہا کہ گذشتہ 25 برسوں سے بات چل رہی تھی کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ نئے پارلیمنٹ کمپلیکس کو وقت سے پہلے مکمل کیا جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نیا بھارت ہے اور یہ بھارت خود اعتمادی سے بھرپور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کو نوجوانوں اور جنگ کیلئے تیار بنانے کیلئے مسلسل اصلاحات کی جارہی ہیں۔ مودی نے کہا کہ پہلے لوگ بم دھماکوں کے بارے میں سنا کرتے تھے لیکن آج ملک ، خود کو محفوظ محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امن و سلامتی ہوتی ہے تو ہماری توجہ ترقی پر مرکوز ہرتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری قومی کوششیں دنیا کی بہبود کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وباءکے دوران ، جس طرح بھارت نے دنیا کی مدد کی ہے ، بھارت دنیا کیلئے ایک دوست یعنی وشِو متر کے طور پر ابھرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک وشو منگل (عالمی بہبود ) کی مضبوط بنیاد رکھ رہا ہے۔
مودی نے کہا کہ 2047 میں جب ملک آزادی کے 100 سال منائے گا ، اُس وقت بھارت کا ترنگا پرچم، دنیا میں ترقی یافتہ بھارت کا ترنگا پرچم ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ترقی یافتہ بھارت ، محض ایک خواب نہیں ہے بلکہ یہ 140 کروڑ بھارتیوں کا ایک عہد ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ ملک کی سب سے بڑی قوت ، اُس کا قومی کردار ہے۔
مودی نے کہا کہ بدعنوانی ، اقرباءپروری اور خوشامد پسندی تین بڑی برائیاں ہیں ۔ انہوں نے اِن سے باہر آنے کیلئے کہا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کیلئے ہماری یہ مجموعی ذمہ داری ہونی چاہیئے کہ ہم امکانات، شفافیت اور مساوی اور غیر امتیازی سلوک کو فروغ دیں۔


