ملک میں سیاسی مفاد کی خاطر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکایا جارہا ہے۔ آئے دن نفرت انگیزی کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ایک تازہ واقعہ میں کچھ فرقہ پرستوں نے جئے پور ایکسپریس میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد کی تائید میں نعرے لگائے۔
اطلاعات کے مطابق ممبئی میں تفتیش کے دوران چیتن سنگھ ایک تھانہ میں لایا گیا تھا جہاں اسے ایک ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ پولیس اسٹیشن کے باہر پہلے موجود کچھ ہندتوا کارکنوں نے جئے شری رام کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر فرقہ پرستوں نے چینن کی تائید میں بھی نعرے لگائے۔
پولیس نے نعرے لگانے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش تو کی نہیں ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ صارفین کی جانب سے دریافت کیا جارہا ہے کہ ’پولیس اسٹیشن کے سامنے ایک دہشت گرد کی تائید میں کس طرح نعرے لگائے جاسکتے ہیں- ایک صارف نے دریافت کیا کہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے دہشت گرد کی تائید میں ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے والے کیا ہندو ہیں؟


