مہاراشٹرا میں ممبئی کے گھاٹکوپر علاقہ میں واقع رمبائی امبیڈکر نگر میں ایک 30 سالہ مسلم نوجوان شاہد یونس خان کو شرپسندوں نے نام پوچھ کر حملہ کردیا اور جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ ممبئی اردو نیوز کے مطابق شرپسندوں نے شاہد کو اورنگ زیب کی اولاد کہا اور لاٹھوں اور سلاخوں سے بری طرح مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔
شاہد ہسپتال میں زیرعلاج ہیں ان کے ہاتھ فیکچر ہے اور سر پر اندرونی چوٹیں ہیں جہاں خون جمع ہوگیا جبکہ شبہ کیا جارہا ہے کہ شاہد کے سر پر بھی فریکچر ہوسکتا ہے۔ شاہد گھر میں اکیلے کمانے والے ہیں جبکہ گھر میں والد فالج کا شکار ہیں، والدہ و بیوی کے علاوہ سات سالہ بیٹی اور ایک بہن و دو بھائی ہیں۔
شرپسندوں کے حملے میں شاہد بری طرح زخمی ہوگئے، جس کی وجہ سے وہ کئی ماہ تک کوئی کام کرنے سے قاصر ہیں۔ شدید زخمی شاہد نے بتایا کہ اسے ہندو بگوانوں سے متعلق نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا اور مجھے برہنہ کرکے اتنا مارا کے میں بیہوش ہوگیا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود پولیس نے شرپسندوں کے خلاف معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ لوگوں نے پولیس پر سیاسی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کیا۔


