دہلی کے جنترمنتر پر ہندو مہاپنچایت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس، پولیس نے اجلاس کو رکوادیا

ہریانہ کے نوح میں فسادات کے بعد اب کچھ شدت پسند تنظیمیں ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ گذشتہ روز دہلی کے جنتر منتر میں ہندو پنچایت منعقد کی گئی جہاں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز ریمارکس کئے گئے اور ہندو برادری کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ہندو مہاپنچایت میں مقررین نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں اور اقلیتی برادری کے خلاف ہندوؤں کو اکسانے والے ریمارکس کئے۔

اس دوران ہندو مہاپنچایت کے پنڈال میں موجود پولیس افسران نے جب مقررین کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کی گئی تو انہوں نے مداخلت کررتے ہوئے پنچایت کو رکوا دیا۔ متنازعہ سوامی ملعون یتی نرسنگھانند کو یہاں سے منتقل کردیا اور دیگر ایک سو زائد شرکا کو منتشر کردیا۔

واضح رہے کہ 11 اگست کو سپریم کورٹ نے کسی بھی مذہبی برادری کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

جنتر منتر پر کچھ فرقہ پرست ہندو تنظیموں کی طرف سے منعقد کی گئی میٹنگ کو پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا جب کچھ مقررین نے مبینہ طور پر “اشتعال انگیز تقریریں” کیں۔ ایک پولیس افسر نے منتظمین کو بتایا کہ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی خاص مذہب کے بارے میں کچھ نہ کہیں، اس کے باوجود وہ ایسا کر رہے ہیں، اور اجتماع کو منتشر ہونے کی ہدایت کی۔

آل انڈیا سناتن فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام ’مہاپنچایت‘ سے خطاب کرتے ہوئے، متنازعہ سوامی یتی نرسنگھا نند نے کہا، ’’اگر ہندوؤں کی آبادی کم ہوتی ہے اور مسلمانوں کی آبادی اسی طرح بڑھتی ہے، تو ہزار سالہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ پھر جو کچھ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے ساتھ ہوا وہی یہاں دہرایا جائے گا۔

ہندو سینا کے وشنو گپتا، جنہوں نے نرسنگھ نند کے بعد اسٹیج سنبھالا، الزام لگایا کہ نوح اور میوات جہادیوں اور دہشت گردوں کے قلعوں” میں تبدیل ہو چکے ہیں اور مطالبہ کیا کہ وہاں فوج اور سی آر پی ایف کیمپ قائم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک 1947 میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوا۔ جب تک ایک بھی مسلمان یہاں موجود ہے تقسیم مکمل نہیں ہوگی۔ جب وہ تقریر کررہے تھے تو پولیس افسر نے مداخلت کی اور شرکاء کو جائے وقوعہ سے منتشر کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں