حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کی وہ ٹیچر جس نے ساری دنیا میں ملک کے وقار کو مجروح کیا ہے آج انہوں نے اپنی متعصبانه حرکت پر معافی مانگنے اور معذرت کرنے کے بجائے اس شرمناک حرکت پر صفائی پیش کی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کو معمولی واقعہ قرار دیا۔
وائرل ویڈیو میں نفرت انگیزی کا کھل کر مظاہرہ کرنے والی خاتون ٹیچر نے کہا کہ ’یہ واقعہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں تھا‘۔ ترپتا تیاگی نے کہا کہ انہوں نے کچھ طالب علموں سے کہا کہ وہ لڑکے کو تھپڑ ماریں کیونکہ وہ اپنا ہوم ورک نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے کہا کہ لڑکے کے والدین نے انہیں سختی کرنے کےلئے دباؤ ڈالا تھا۔
آخر میں اس تریپتا تیاگی نے اپنے معذور ہونے کا بھی عذر پیش کیا اور ویڈیو پر ہی سوال اٹھادیئے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں ترمیم کی گی تاکہ پورے واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جاسکے۔


