ہریانہ کے نوح میں وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل و دیگر شدت پسند ہندوتوا تنظیمیں 28 اگست کو جل ابھیشیک یاترا نکالنے کی ضد پر اڑی ہوئی ہیں جبکہ انتظامیہ نے اس کےلئے اجازت دینے سے صاف انکار کردیا، اس کے باوجود ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے کسی بھی حال میص یاترا نکالنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔
ہریانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شتروجیت کپور نے صاف الفاظ میں وصاحت کی کہ ’کسی بھی تنظیم کو کسی بھی طرح کی یاترا نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے اعلیٰ افسران کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے ریاست میں سیکوریٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
واضح رہے کہ 3 تا 7 ستمبر کو نوح میں جی-20 میٹنگ منعقد ہوگی جس کے پیش نظر علاقہ میں امن و امان کی برقراری کےلئے انتظامیہ کی جانب سے یاترا کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، قبل ازیں 31 جولائی کو یاترا کے دوران فساد پھوٹ پڑا تھا۔
اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے یاترا کےلئے اجازت دینے سے انکار کرنے کے باوجود ہندوتوا تنظیمیں بضد ہیں اور انہوں نے ہریانہ اور دیگر پڑوسی ریاستوں کے لوگوں سے 28 اگست کو نوح پہنچنے کی اپیل کی ہے، جس کے بعد ہریانہ پولیس کی جانب سے کڑے انتظامات کئے جارہے ہیں اور علاقہ میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کے لیے 26 اگست کی دوپہر 12 بجے سے 28 اگست کو آدھی رات تک انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا گیا ہے۔
نوح کے ڈی سی دھیریندر کھڈگتا نے 25 اگست کو محکمہ داخلہ کو ایک خط لکھ کر ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات اور بلک ایس ایم ایس سروس پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاکہ برج منڈل یاترا نکالے جانے کی صورت میں کسی بھی قسم کے تشدد اور افواہوں کو روکا جا سکے۔


