مکہ معظمہ اور قرآن پاک سے متعلق توہین آمیز ریمارکس کرنے کے الزام میں دہلی کی خاتون ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج، ہیما گلاٹی نے چار مسلم طلبا سے فرقہ پرستانہ تبصرے کئے

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے اسکول میں زیرتعلیم چار مسلم طلباء نے ٹیچر پر ان کے ساتھ فرقہ وارانہ و توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام عائد کیا۔ اطلاعات کے مطابق مسلم طلبا سے ان کے ٹیچر نے پوچھا کہ تقسیم ہند کے وقت ان کا خاندان پاکستان کیوں نہیں گیا تھا؟

یہ واقعہ اترپردیش کے مظفرنگر میں پیش آئے ایک انتہائی شرمناک واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی کا زہر اب اسکولوں تک پہنچ چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا علم کے مندر بھی اب فرقہ پرستی اور ہندوتوا کی فیکٹریوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے؟

ایک مسلم طالب علم کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چندریان 3 مشن کی کامیابی کے بعد کلاس میں فرقہ پرست ٹیچر نے طلبا کے ساتھ توہین آمیز تبصرے کئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیچر نے بچوں کے سامنے کہا کہ ’تمہارا مذہب ٹھیک نہیں ہے تم جانور کو کاٹتے ہو‘ مسلمانوں کا ملک کی آزادی میں کوئی رول نہیں ہے‘۔ والدہ نے کہا کہ ٹیچر نے مذہب اسلام سے متعلق بھی انتہائی توہین آمیز تبصرے کئے۔

دہلی پولیس نے 9ویں جماعت کے طالب علموں کے اہل خانہ کی شکایت پر گاندھی نگر کے سرکاری سروودیا بال ودیالیہ کی ٹیچر ہیما گلاٹی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق الزامات کی تحقیقات کی جائے گی۔

مسلم طلبا نے فرقہ پرست ٹیچر پر الزام عائد کیا کہ اس نے معکہ معظمہ اور قرآن سے متعلق توہین آمیز کلمات کہے اور فرقہ پرستانہ ذہنیت کی حامل ہیما گلاٹی نے طلبا سے کہا کہ ’تمہارے والدین تقسیم کے وقت پاکستان کیوں نہیں گئے، ہندوستان میں کیوں رہے، ہندوستان کی آزادی میں آپ لوگوں کا کوئی حصہ نہیں تھا وغیرہ وغیرہ‘۔

طلبا کے سرپرستوں نے ہندوتوا کی حامی ٹیچر کی برطرفی کا مطالبہ کیا کیونکہ اس سے اسکول کا ماحول خراب اور طلبا کا مستقبل برباد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں کاروائی نہیں کی گئی تو دوسروں کو بھی اس سے حوصلہ ملے اور اس طرح کے اور بھی واقعات رونما ہوں گے۔

اب دیکھنا ہوگا کہ دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت جو خود کو سیکولر اور مسلمانوں کی ہمدرد کہتی ہے اس فرقہ پرست ٹیچر کے خلاف کس طرح کی کاروائی کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں