مہاراشٹر کے جالنہ میں مراٹھا ریزرویشن احتجاج کو پرتشدد ہو گیا۔ مظاہرہ کے دوران ہوئے پرتشدد واقعات میں 42 پولیس اہلکاروں سمیت کئی لوگ زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل ہجوم نے دو بسوں کو آگ لگا دی اور کئی گاڑیوں کو تباہ کردیا۔
وزیراعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے عوام سے امن و سلامتی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ مظاہرہ کے دوران تشدد اس وقت پھوٹ پڑا جب منوج جارنگے کی قیادت میں مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک 2021 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ مہاراشٹر میں مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 30 نومبر 2018 کو ریاستی اسمبلی میں مراٹھا ریزرویشن بل پاس کیاتھا۔ اس کے تحت ریاستی سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مراٹھوں کو 16 فیصد ریزرویشن دینے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس کے بعد میڈیکل طلباء نے اس بل کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ ہائی کورٹ نے ریزرویشن کو برقرار رکھا تاہم 17 جون 2019 کے فیصلے میں تعلیمی اداروں میں کوٹہ کو کم کر کے 12 فیصد اور سرکاری ملازمتوں میں 13 فیصد کر دیا۔ بعدازاں بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی۔ 5 مئی 2021 کو سپریم کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن بل کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس پر عمل درآمد سے 50 فیصد حد کی خلاف ورزی ہوگی۔


