نئے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے سب سے پہلے بل ’خواتین ریزرویشن‘ ( ناری شکتی وندن بل 2023) کو آج لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا۔ بل کی حمایت میں 454 ووٹ جبکہ مخالفت میں صرف 2 ووٹ دیئے گئے۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے دو ارکان پارلیمان نے اس بل کی مخالفت میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔
قبل ازیں بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف “ساورنہ خواتین” کو ہی ریزرویشن فراہم کرے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ او بی سی اور مسلم خواتین جن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی اس سے بھی کم ہے، انہیں کوئی کوٹہ کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’میں اس قانون کی مخالفت کرتا ہوں… اس بل کے لیے جو جواز پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ خواتین منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آئیں گی۔ اگر یہی جواز ہے تو اس جواز کو او بی سی اور مسلم خواتین تک کیوں نہیں وسعت دی جارہی ہے جن کی اس معزز ایوان میں نمائندگی انتہائی کمتر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ مسلم خواتین آبادی کا سات فیصد ہیں لیکن اس لوک سبھا میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہے‘۔


