کاویری آبی تنازعہ: کرناٹک بند سے عام زندگی مفلوج

حیدرآباد (دکن فائلز) تمل ناڈو کو 3000 کیوسک پانی چھوڑنے کے CWMA (کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے فیصلے کے بعد کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہاکہ وہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججس، ایڈوکیٹ جنرلوں سے مشاورت کریں گے تاکہ اگلے لائحہ عمل پر غور کیا جاسکے۔

کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ پر ریاست گیر کرناٹک بند کی کال دی گئی۔ کاویری ندی کے پانی کی تمل ناڈو کو منتقلی کے خلاف کرناٹک میں ریاست گیر بند منایا گیا۔ بند کی کال مختلف کنڑ تنظیموں کے اتحاد ‘کنڑ اوکتا’ نے دی تھی۔ ریاست بھر میں بند کی وجہ سے عام زندگی متاثر رہی۔ جمعہ کو بنگلور بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی کم از کم 44 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ بند کی وجہ سے کئی شہروں میں زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔

بنگلور ایئرپورٹ پر پانچ کنڑ حامیوں کو گرفتار کرلیا گیا جب وہ جھنڈے لیکر بنگلور ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ اس وقت ایئرپورٹ پر افراتفری پھیل گئی۔ بند کو ریاست کے جنوبی حصوں بشمول بنگلور میں زبردست حمایت ملی۔ ان علاقوں میں بند کامیاب رہا۔

پولیس نے بند کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کےلئے بنگلور شہر، منڈیا، میسور، چامراج نگر، رام نگر اور ہاسن اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کردیا۔ ان شہروں میں اسکول اور کالج بند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں